حضرت سیدنا سلمان الفارسی رضی اللّٰہ عنہ

02/03/2017  (1 سال پہلے)   702    کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن
آپ ایران کے مشہور شہر اصفہان کے رہنے والے تھے۔ آپ کا والد کا نام بود خشان بن مورسلان تھا اور وہ اپنے شہر کا سردار تھا۔ پیدائش کے وقت والد نے مابہ نام رکھا تھا ۔ کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ آپ کے والدکو اپنے بیٹے سلمان سے شدید محبت تھی۔ یہاں تک کہ وہ انہیں ہر وقت اپنے گھر میں محبوس رکھتا تھا تاکہ وہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہو۔ اس کے ساتھ آپ کا باپ اپنے دین مجوسیت کی آپ کو تعلیم دیتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ کو اس فن میں کمال حاصل ہو گیا۔ ایک دن آپ کے باپ نے آپ کو اپنی زمینوں کے خبر گیری کے لیے آپ کو اپنے ڈیرے پر بھیجا۔ راستہ میں عیسائیوں کا ایک گرجا تھا۔ آپ اس کے پاس گزرے تو وہ اپنی عبادت میں مشغول تھے۔ اندر چلے گئے ان عیسائیوں کی دعائیں اور طریقہ عبادت انہیں بہت پسند آیا۔ وہ شام تک وہیں بیٹھے ان کو دیکھتے رہے اور ان کی دعاوں اور تسبیحوں کو سنتے رہے۔ ادھر باپ ان کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ اس نے ان کی تلاش میں ادھر ادھر آدمی دوڑائے۔ جب آپ باپ کے پاس آئے تو انہوں نے عیسائیوں کی عبادت کا تذکرہ کردیا۔ باپ نے اس اندیشہ سے کہ کہیں وہ اپنی آبائی دین کو چھوڑ نہ دیں ان کے پاوں میں لوہے کی بیڑیاں ڈال دیں۔
ایک قافلہ وہاں سے شام کے ملک کی طرف جارہا تھا یہ کسی طریقہ سے اس قافلہ میں شامل ہوگئے جب شام پہنچے تو وہاں ایک کنیہ میں گئے اور کنیہ کے پادری کو اپنے حالات سے آگاہ کیا وہاں اس کی خدمت میں رہنا شروع کردیا۔ لیکن اس کے قول و عمل میں واضح تضاد دیکھا تو بڑے رنجیدہ ہوئے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہے اور لوگ جب صدقہ کی رقم اس کو دیتے ہیں کہ وہ غریبوں میں تقسیم کردے تو ہو انہیں اپنے پاس رکھتا ہے۔ جب وہ مرگیا تو سلمان نے لوگوں کو بتایا کہ تمہارے پادری کے یہ کرتوت تھے اور سو مٹکے جو سونے چاندی کے بھرے ہوئے تھے وہ تہ خانہ سے نکال کر ان کے حوالے کردیئے۔ لوگوں نے اس پادری کو سولی پر جڑھایا اور اس پر سنگ باری کی پھر جاکر اسے دفن کیا۔ اس کی جگہ ایک اور پادری مقرر ہوا۔
 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس کے بارے میں سلمان کہتے تھے کہ میں نے کوئی اور آدمی ایسا نہیں دیکھا جو خضوع وخشوع سے نمازیں اس کی طرح ادا کرتا ہو۔ دنیا کی چاہت کا تو اس کے ہاں کوئی تصور تک نہ تھا۔ کچھ مدت کے بعد وہ شخص فوت ہو گیا۔ اور سلمان کو وصیت کی کہ وہ موصل میں فلاں شخص کے پاس چلے جائیں اور اس کی اتباع کریں۔ حضرت سلمان موصل پہنچے یہ شخص بھی بڑا زاہدو متقی تھا۔ اور آپ اس سے بڑے متاثر ہوئے جب وہ مرنے لگا حضرت سلمان نے اس سے پوچھا کہ آپ تو اس جہان فانی سے رخصت ہورہے ہیں میں اب کس کی خدمت میں حاضری دوں۔ اس نے کہا نصیبین میں ایک شخص ہے جس کا وہی طریقہ ہے جو ہمارا طریقہ ہے تم اس کے پاس چلے جاو۔ آپ موصل سے نصیبین پہنچے اور اس شخص کی خدمت میں رہنے لگے اس کی زندگی کی مہلت جب پوری ہوگئی تو آپ نے اس سے پوچھا کہ اب میں کس طرف کا قصدکروں۔ اس نے کہا بخدا اب صرف ایک شخص ہے جو ہمارے راستے پر صدق دل سے گامزن ہے وہ عموریہ میں رہتہ ہے تم اس کے پاس چلے جاو وہ تمہاری صیحح طور پرراہنمائی کریں گئے۔ سلمان نصیبین سے عموریہ پہنچے اور اس نیک خصلت شخص کی خدمت میں زندگی بسر کرنے لگے۔ اس شخص کی زندگی نے بھی وفا نہ کی اس نے بھی جب اس دارفانی سے رخصت سفر باندھا آپ نے اس سے پوچھا اب آپ بتائیے میں اب کدھر کا رخ کروں۔ اس نے کہا بخدا! میری نظر میں اب کوئی ایسا شخص نہیں بچا جس کے پاس جانے کا میں تمہیں کہوں۔ لیکن اب اس نبی ک بعثت کا زمانہ قریب آگیا ہے جو ابراہیم علیہ اسلام کے دین کو دوبارہ زندہ کریں گے۔ اور ان کی ہجرت گاہ نخلستان میں ہے جو دو جلے ہوئے میدانوں کے درمیان ہے۔ اگر تو وہاں پہنچ سکتا ہے تو وہاں پہنچ۔ اور اس نبی منتظر کی چند نشانیاں ہیں کہ وہ صدقہ نہیں کھاتا لیکن ہدیہ قبول کرتا ہے۔ اور اس کے دو کندھوں میں اپنی نبوت کا نشان ہے۔ جب تم دیکھو گے تو پہچان لوگے۔ سلمان کہتے ہیں کہ جب ہم نے اس شخص کو دفن کردیا تو بنی کلب کے تاجروں کا ایک قافلہ وہاں سے گزرا میں نے ان کے وطن کے بارے میں پوچھا انہوں نے بتایا کہ ہم فلاں جگہ کے رہنے والے ہیں میں انہیں کہا اگر تم مجھے اپنی سرزمین میں پہنچا دو تو میری یہ گائیں اور بکریاں اس کے عوض میں تم لے لو۔ وہ اس پر راضی ہوگئے اور انہیں کے کر وادی القریٰ پہنچے لیکن انہوں نے ان پر یہ ظلم کیا کہ انہیں اپنا غلام بنا کر وادی قریٰ کے یہودی کے ہاتھ فروخت کردیا۔ حضرت سلمان فرماتے ہیں بخدا وہاں میں نے نخلستان دیکھا اور میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید یہ وہی علاقہ ہے جس کے بارے میں اس راھب نے مجھے بتایا تھا۔
کچھ عرصہ بعد اس یہودی نے انہیں یثرب (مدینہ طیبہ) کے ایک یہودی کے ہاتھ فروخت کردیا وہ انہیں لے کر مدینہ طیبہ آیا۔ حضرت سلمان فرماتے ہیں جونہی میں نے اس شہر کو دیکھا میں نے اس کو پہچان لیا اور میں اپنے مالک کا غلام بن کر وہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرنے لگا۔ مجھے معلوم ہوا کہ مکہ میں ایک نبی  مبعوث ہوا ہے۔ میں غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اپنی مرضی سے وہاں جا نہیں سکتا تھا۔  یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا پیارا رسول مکہ سے ہجرت کر کے قبا میں تشریف فرما ہوا۔ ایک روز میں نےاپنے مالک کے نخلستان میں کھجور کے درختوں کی خدمت میں مصروف تھا کہ میرے مالک کا چچا زاد بھائی آیا اور کہنے لگا اوس اور خزرج کا ستیاناس ہو یہ لوگ اس مسافر کے اردگرد جمع ہیں جو مکہ سے ترک وطن کر کے قبا میں پہنچا ہے۔ اور اس کے بارے میں وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ نبی ہے۔ میں جب یہ بات سنی تو مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی۔ میں کجھور کے ایک درخت پر چڑھا ہوا تھا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میں اپنے مالک کے اوپر نہ جاگروں اس لئے میں اتر آیا اور میں نے پوچھا تم کیا بات کررہے تھے۔ میرے مالک نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور مجھے ایک زور دار مکہ رسید کیا اور غصہ سے کہا تجھے اس بات سے کیا واسطہ۔ تم اپنا کام کرو۔ میں نے کہا میرا اس خبر سے تو کوئی واسطہ نہیں لیکن میں ایک بات سنی میں نے چاہا کہ اس بارے میں تصدیق کرلوں۔
جب شام ہوئی میرے پاس کھانے کی کوئی چیز تھی میں قبا میں حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نیک شخص ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کے ساتھی بھی ہیں اور آپ مسافر ہیں میرے پاس صدقہ کا کچھ طعام ہے میں سمجھتا ہوں آپ لوگ سب سے زیادہ اس کے مستحق ہیں لیجئے اس تناول فرمائیے۔ سلمان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک تو صدقہ کےاس طعام سےروک لیا اور اپنے ساتھیوں کو فرمایا کھاو اور خود نہ کھایا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ کے بارے میں جو نشانیاں مجھے بتائی گئی تھیں ان میں سے ایک نشانی پوری ہوگئی کہ آپ نے صدقہ نہیں کھاتے۔
کچھ روز بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لئے گئے چند روز بعد میں کوئی چیز لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوا میں عرض کیا میں نے دیکھا ہے کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے۔ یہ چیز بطور ہدیہ لیے آیا ہوں یہ صدقہ نہیں ہے۔ سلمان کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے اسے تناول فرمایا میں نے دل کہا دو نشانیاں پوری ہو گئیں۔
دن گزرتے گئے۔ سلمان ایک غلام کی زندگی بسرکرتے رہے اور اس تجسس میں رہے کہ اس کے راھب نے اس نبی کے بارے میں جو نشانیاں انہیں بتائی تھیں کیا حضور ک ذات والا صفات میں یہ نشانیاں مکمل طور پر پائی جاتی ہیں۔
ایک دن حضور کے پاس آیا آپ اپنے ایک نیاز مند کے جنازہ کے سلسلہ میں بقیع شریف میں تشریف فرما تھے۔ میں پیچھے مڑا تاکہ میں پشت مبارک پر ختم نبوت کا مشاہدہ کروں۔ جب حضور نے دیکھا کہ میں پیچھے سے گھوم کر آیا ہوں تو حضور نے اپنی پشت مبارک پر پڑی ہوئی چادر اٹھالی۔ حضور کے دونوں کندھوں کے درمیان ختم نبوت کو میں دیکھ لیا جس طرح میرے راھب نے مجھے بتایا تھا۔ تو میں جذبات سے بے قابو ہوکر گر پڑا میں وارفتگی میں حضور کو بوسے دے رہا تھا اور رورہا تھا۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ آگے آو میں اٹھ کر حضور کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنی ساری داستان حضورکی خدمت میں پیش کی۔ یہ واقعہ آپ نے حضرت ابن عباس کی خدمت میں بیان کرنے کے بعد گزارش کی اے ابن عباس! جس طرح میں نے آپ کو اپنی ساری داستان سنائی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے مطابق میں نےحضور کی صحابہ کی بھی بالتفصیل اپنی کہانی سنائی تھی۔
میں غلام تھا اور اپنے آقا کی خدمت گزاری میں دن رات مشغول رہتا تھا۔ اس لئے بدر اور احد کے غزوات میں، میں شرکت کی سعادت سے محروم رہا۔ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ اے سلمان! اپنے مالک کے ساتھ مکاتبت کرو۔ پس میں نے اپنے مالک کے ساتھ اس شرط پر مکاتبت کی کہ میں اسے کجھور کے تین سو پودے لگا کر اور ہرے کر کے دوں گا۔ ان کے علاوہ چالیس اوقیہ چاندی پیش کروں گا۔ جب میں نے اس کی اطلاع سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی تو حضور نے اپنے صحابہ کو حکم دیا۔ "اپنے بھائی کی مددکرو۔" انہوں نے میری مدد کی کسی نے کجھور کے تیس پودے کسی نے بیس۔ کسی نے پندرہ کسی نے دس دیئے۔ یہاں تک کہ تین سو پورے ہوگئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے سلمان جاو ان پودوں کے لئے گڑھے کھودو اور جب اس کام سے فارغ ہو جاو تو میرے پاس آو۔ میں خود ان پودوں کو اپنے ہاتھ سے لگاوں گا۔ میں نے جاکر تین سو گڑھے کھودے جس میں میرے دینی بھائیوں نے بھی میرا ہاتھ بٹایا۔ پھر میں نے حاضر ہو کر عرض کی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ہمراہ لے کر اس جگہ کی طرف گئے ہم وہ پودے اٹھا کر حضور کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دست مبارک سے ان گڑھوں میں لگاتے جاتے تھے۔ سلمان کہتے ہیں "مجھے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں سلمان کی جان ہے کہ ان میں سے ایک پودا بھی نہیں مرا سب کے سب ہرے ہوگئے۔"
لیکن ابھی چالیس اوقیہ چاندی کی ادائیگی میرے ذمہ باقی تھی۔ ایک روز مرغی کے انڈے کے  برابر سونا کسی کان سے بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا۔ حضور نے دریافت کیا اس فارسی مکاتب کا کیا بنا۔ میں حاضر ہوا حضور نے وہ سونے کا انڈا مجھے دیا اور فرمایا کہ جو بقیہ زرمکاتبت تیرے ذمہ ہے وہ اس سے ادا کردو۔ میں عرض کی یارسول اللہ وہ کثیر زرمکاتبت ایک بیضہ زر سے کیونکر ادا ہوگا۔ تو قاسم خزائن الہی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ "اسے لے لو یہ قلیل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اسی سے سارا زرمکاتبت اداکردے گا۔" میں نے لیے لیا اپنے مالک کے پاس گیا اور اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں سلمان کی جان ہے اسی سے چالیس اوقیہ میں نے وزن کر کے انہیں ادا کردیئے اور یوں میں نے اس یہودی کی غلامی سے نجات پائی۔ اب میں آزاد تھا۔ ہروقت حضور کی خدمت میں رہتا پہلی جنگ غزوہ خندق تھی جس میں ایک آزاد مومن کی حثیت سے میں شرکت کی اور اس کے بعد کوئی جہاد ایسا نہیں ہوا جس میں ، میں نے شرکت نہ کی ہو۔
غزوہ خندق کے موقع پر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے متعلق مہاجرین وانصار کا اختلاف ہوا ،انصار نے کہا کہ سلمان ہم میں سے ہیں اور مہاجرین نے کہا کہ سلمان ہم میں سے ہیں ، یہ اختلاف سن کر سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سلمان منا اھل البیت ( یعنی سلمان نہ انصارمیں سے ہیں نہ مہاجرین میں سے ہیں بلکہ وہ ہمارے اہل بیت میں سے ہیں ) ۔
مندرجہ  بالا واقعات اور روایات کے مطالعہ سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یثرب کے اہل کتاب کو اپنی دینی کتب کے مطالعہ سے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ اور ہجرت کے بعد جب حضور علیہ الصلوۃ واسلام مدینہ طیبہ میں تشریف لے آئے تو انہوں نے ان علامات سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو خوب پہچان لیا تھا۔ لیکن حسد کے باعث ان میں اکثر نعمت ایمان سے محروم رہے۔
 
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ حکیم لقمان کی طرح ذہین ہیں۔ حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس قرآن کے علم کے علاوہ عیسائیوں کے مذہب اور آتش پرستوں کے مذہب کے بارے میں بھی مکمل علم تھا۔ حضرت کعب الحبار ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سلمان فارسی علم کا وہ سمندر ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا۔
آپ نے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں قرآن کا کچھ حصہ کو فارسی میں ترجمہ کیا۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قرآن کا کسی بھی دوسری زبان میں پہلی مرتبہ ترجمہ کیا۔
ایک اور حدیث شریف میں ہے کے اللہ نے مجھے چار لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اللہ بھی ان سے محبت کرتا ہے اور چار لوگ علی، ابوزر، مقداد اور سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہم ہیں۔
سید عالمﷺ کا ارشاد ہے کہ سبقت لے جانے والے ( دین حق کی طرف اپنے اپنے علاقوں اور قبیلوں میں سے ) چار ہیں میں عرب میں سب سے آگے بڑھ جانے والا ہوں اور اس کے علاوہ صہیب رومی رضی اللہ عنہ،،  سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور بلال حبشی رضی اللہ عنہ ۔ 
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سادہ طبیعت اور متواضع انسان ہی نہ تھے بلکہ شہرت اور بڑائی کو ساری امت کےلئے مصیبت کا پیش خیمہ سمجھتے تھے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں مدائن کے گورنر مقرر کردئیے گئے ، تقریبا پانچ ہزار درھم وظیفہ مقرر تھا ، لیکن آپ سارا وظیفہ صدقہ کردیتے اور ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے ، گورنر ہوکر بھی ایک کوٹھڑی تک نہ بنا ئی بلکہ ایک '' عبا'' پاس تھی ، آدھی بچھا لیتے تھے اور آدھی کو اوپر اوڑھ لیتے تھے اور درختوں کے سایہ میں آرام فرمالیتے ۔ جب سایہ چھٹ جاتا تو سایہ کے ساتھ خود بھی سرک جاتے تھے ، کبھی صرف درخت پر کپڑا ڈال کر کام چلا لیا کرتے اور اسی کو مکان کی جگہ استعمال فرمالیا کرتے ۔
گورنری کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص شام سے مدائن آیا اسکے پاس بُھس کا بوجھ تھا ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ پر نظر پڑی کہ خالی ہاتھ ہیں تو کہنے لگا کہ آپ ذرا میر ابوجھ لے چلیں ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے بُھس کا گٹھڑا اٹھا کر سر پر رکھ لیا، جب لوگوں نے یہ ماجرا دیکھا تو اس شخص سے کہااے میاں ! یہ تو گورنر ہیں ان کو تونے کیوں لاددیا ؟ یہ سنکر وہ شخص بڑا شرمندہ ہوا اور معذرت کرنے لگا حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اب تو تیرے گھر تک میں ہی پہنچاؤں گا ، جب میں نے ایک نیک کام کی نیت کرلی تو اب اسے پورا کئے بغیر نہ چھوڑوں گا ۔
قبیلہ بنی عبس کا ایک شخص ،حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس نیت سے ایک سفر میں ساتھی بنا کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے کچھ سیکھے مگر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ان کو خادم بنا کر نہیں رکھا بلکہ چھوٹے بڑے کام خود کرتے رہے اور ان کو کسی طرح بھی کام میں نہ پڑنے دیا ۔ اگر وہ آٹا گوندھ دیتا تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ روٹی پکا دیتے تھے اور اگر وہ سواریوں کےلئے چارہ فراہم کردیتا تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ ان کو پانی پلاکر لاتے تھے ۔
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ایک مرتبہ قریش فخر کے طور پر اپنے نسب کی بڑائی بیان کرنے لگے ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے انکی بات سن کر فرمایا کہ میں تو اپنے کو ذرا بھی قابل فخر نہیں سمجھتا ، میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ میں ناپاک نطفہ سے پیدا کیا گیا ہوں اور مر کر بدبودار نعش بن جاؤں گا ،اسکے بعد مجھے میزانِ عدل ( قیامت کے دن انصاف کے ترازو) پر کھڑا کیا جائے گا ،اگر اس وقت میری نیکیاں بھاری نکلیں تو میں عزت وشرافت کا مستحق ہوں اور اگر میری نیکیاں گناہوں کے مقابلہ میں ہلکی رہ گئیں تو میں رزیل اور حقیرہوں۔
ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ دل اور جسم کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا ہو، اور ایک اپاہج ہو اپاہج کو درخت پر کھجور نظر آئی مگر توڑ نہیں سکتا اور اندھا توڑسکتا ہے مگر اسے نظر نہیں آتا ہے ۔ لہٰذا اپاہج نے اندھے سے کہا کہ مجھے کاندھے پر چڑھا کر کھجور تک پہنچادے تو میں توڑ لوں گا ( اور دونوں ملکر کھا لیں گے ) لہٰذا اندھے نے اس کی بات مان لی اور دونوں کو کھجور مل گئی بالکل اسی طرح دل اور جسم کی مثال ہے کہ دل سمجھ سکتا ہے ، حق وباطل کی تمیز کرسکتا ہے مگر عمل کرنا اسکے بس کاکام نہیں اور جسم عمل کرسکتا ہے مگر کھوٹے کھرے کا فرق نہیں کرسکتا لہٰذا اگر دونوں مل کر عمل کریں تو آخرت کے اعمال کرسکتے ہیں کہ ایک سمجھ لے اوردوسرا کرلے ۔
جب وفات کا وقت بالکل ہی قریب آپہنچا تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ اے بقیرہ ! یہ سب دروازے کھول دے ، کیونکہ آج میرے پاس زیارت کرنے والے ( فرشتے ) آئیں گے ،پھر اپنی بیوی سے فرمایا کہ وہ مشک کہاں گیا جو بلنجر سے آیا تھا ؟ بیوی نے عرض کیا کہ یہ موجود ہے !فرمایا اسے پانی میں ڈال کر میرے بستر کے چاروں طرف چھڑک دے کیونکہ میرے پاس ایسے بندے آنے والے ہیں جو نہ انسان ہیں نہ جن ،جو خوشبو سونگھتے ہیں ، کھانا نہیں کھاتے ، مشک چھڑک کر ذرا دیر کےلئے میرے پاس سے ہٹ جاؤ ، چنانچہ بیوی نے ایسا ہی کیا اور مشک چھڑک کر ذرا دیر کو ان سے علیحدہ ہوگئی پھر جو آکر دیکھا تو ان کی روح مبارک پرواز کرچکی تھی ۔
آپ کی وفات کے مطلق مختلف رائے ہیں۔ لیکن جو سب سے زیادہ قابل اعتماد ہے اس کے مطابق آپ نے 31 یا 34 ہجری کو 250 سال کی عمر میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں وفات پائی۔
 

 

سوشل میڈیا پر شیئر کریں یا اپنے کمنٹ پوسٹ کریں

اس قلم کار کے پوسٹ کیے ہوئے دوسرے بلاگز / کالمز
ویلنٹائن ڈے کیا ہے۔
11/02/2018  (10 مہینے پہلے)   331
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : ایڈمن

بسنت میلہ (کائیٹ فیسٹیول) اور ہماری روایات
04/02/2018  (10 مہینے پہلے)   466
کیٹیگری : فن اور ثقافت    قلم کار : ایڈمن

سرفس ویب، ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کیا ہیں۔
29/01/2018  (11 مہینے پہلے)   606
کیٹیگری : ٹیکنالوجی    قلم کار : ایڈمن

ذرہ نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
21/01/2018  (11 مہینے پہلے)   191
کیٹیگری : سپورٹس اور گیمنگ    قلم کار : ایڈمن

حضرت حافظ محمد اسحٰق قادری رحمتہ اللہ علیہ
15/01/2018  (11 مہینے پہلے)   393
کیٹیگری : تاریخ    قلم کار : ایڈمن

وقار انبالوی ایک شاعر، افسانہ نگار اور صحافی
11/01/2018  (11 مہینے پہلے)   679
کیٹیگری : تحریر    قلم کار : ایڈمن

روزانہ ذلیل ہوتی ہماری عوام اور ان کی سوچ
07/01/2018  (11 مہینے پہلے)   181
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : ایڈمن

جامعہ دارالمبلغین حضرت میاں صاحب
11/12/2017  (12 مہینے پہلے)   426
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

ناموس رسالت اور ہمارا ایمان
21/11/2017  (1 سال پہلے)   404
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

بارکوڈز کیا ہیں اور یہ کیسے کام کرتے ہیں۔
30/10/2017  (1 سال پہلے)   543
کیٹیگری : ٹیکنالوجی    قلم کار : ایڈمن

ٍصحافتی اقتدار اور ہماری ذمہ داریاں
12/09/2017  (1 سال پہلے)   323
کیٹیگری : تحریر    قلم کار : ایڈمن

پوسٹ آفس (ڈاکخانہ) شرقپور شریف
29/03/2017  (1 سال پہلے)   1050
کیٹیگری : دیگر    قلم کار : ایڈمن

ہمارا معاشرہ اور کمیونٹی سروس
24/03/2017  (1 سال پہلے)   684
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : ایڈمن

حاجی ظہیر نیاز بیگی تحریک پاکستان گولڈ میڈلسٹ
19/03/2017  (1 سال پہلے)   766
کیٹیگری : تاریخ    قلم کار : ایڈمن

جامعہ حضرت میاں صاحب قدس سرہٰ العزیز
16/03/2017  (1 سال پہلے)   672
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

آپ بیتی
15/03/2017  (1 سال پہلے)   846
کیٹیگری : سیاحت اور سفر    قلم کار : ایڈمن

جامعہ مسجد ٹاہلی والی
13/03/2017  (1 سال پہلے)   1010
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

ابوریحان محمد ابن احمد البیرونی
11/03/2017  (1 سال پہلے)   896
کیٹیگری : سائنس    قلم کار : ایڈمن

انٹرنیٹ کی دنیا
01/03/2017  (1 سال پہلے)   691
کیٹیگری : ٹیکنالوجی    قلم کار : ایڈمن

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
28/02/2017  (1 سال پہلے)   689
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

ابرہہ کی خانہ کعبہ پر لشکر کشی
27/02/2017  (1 سال پہلے)   924
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

خطہ ناز آفریں - شرقپور
21/02/2017  (1 سال پہلے)   830
کیٹیگری : تحریر    قلم کار : ایڈمن

پاکستان میں صحافت اور اس کا معیار
21/02/2017  (1 سال پہلے)   739
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : ایڈمن

امرودوں کا شہر شرقپور
11/02/2017  (1 سال پہلے)   2103
کیٹیگری : خوراک اور صحت    قلم کار : ایڈمن

دنیا کا عظیم فاتح کون ؟
30/01/2017  (1 سال پہلے)   515
کیٹیگری : تاریخ    قلم کار : ایڈمن

حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ
15/10/2016  (2 سال پہلے)   2556
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

حضرت میاں غلام اللہ ثانی لا ثانی رحمتہ اللہ علیہ
15/10/2016  (2 سال پہلے)   2693
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

تبدیلی کیسے ممکن ہے ؟
06/10/2016  (2 سال پہلے)   596
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : ایڈمن

شرقپور کی پبلک لائبریری اور سیاسی وعدے
26/09/2016  (2 سال پہلے)   862
کیٹیگری : تعلیم    قلم کار : ایڈمن

شرقپور میں جماعت حضرت دواد بندگی کرمانی شیرگڑھی
17/08/2016  (2 سال پہلے)   1976
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

تحریک آزادی پاکستان اورشرقپور
14/08/2016  (2 سال پہلے)   1152
کیٹیگری : تاریخ    قلم کار : ایڈمن

اپنا بلاگ / کالم پوسٹ کریں

اسی کیٹیگری میں دوسرے بلاگز / کالمز

جامعہ دارالمبلغین حضرت میاں صاحب
11/12/2017  (12 مہینے پہلے)   426
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب

ناموس رسالت اور ہمارا ایمان
21/11/2017  (1 سال پہلے)   404
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب

حضرت میاں شیر محمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ
21/11/2017  (1 سال پہلے)   315
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب

کلمہ پڑھا ہوا ہے !!
18/03/2017  (1 سال پہلے)   614
قلم کار : توقیر اسلم
کیٹیگری : مذہب

جامعہ حضرت میاں صاحب قدس سرہٰ العزیز
16/03/2017  (1 سال پہلے)   672
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب

جامعہ مسجد ٹاہلی والی
13/03/2017  (1 سال پہلے)   1010
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
28/02/2017  (1 سال پہلے)   689
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب


اپنے اشتہارات دینے کیلے رابطہ کریں