ابرہہ کی خانہ کعبہ پر لشکر کشی

27/02/2017  (1 سال پہلے)   924    کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا۔
کیا ان کا داوں تباہی میں نہ ڈالا
اور پھر ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں بھیجیں
کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے
تو انہیں کر ڈالا جیسے کھایا ہوا بھس
(سورۃ فیل)
 
یہ واقعہ جس کا ذکر قرآن پاک میں ہے اور اس پر سورۃ فیل نازل ہوئی، آقا کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے تقریبا 50 دن پہلے یکم محرم کو پیش آیا۔ اور ابرہہ کی لشکر کشی کا اور اس کی تباہی کا واقعہ حضرت عبدالمطلب کے زمانہ میں روپذیر ہوا۔ حضرت عبدالطلب کے بارے میں سید محمود شکری الاکوسی لکھتے ہیں۔
 
حضرت عبدالمطلب کے چہرے سے نور کی شعاعیں نکلتی تھیں۔ اور آپ کے خدوخال سے خیروبرکت کے آثار نمایاں ہوتے تھے۔ وہ اپنی اولاد کو سرکشی اور ظلم سے منع کرتے تھے، مکارم اخلاق کو اپنانے کی انہیں ترغیب دیتے تھے۔ اور گھٹیا کاموں سے انہیں روکتے تھے۔ آپ کی دعا ہمیشہ قبول ہوتی تھی۔ آپ نے اپنے اوپر شراب کو حرام کردیا تھا وہ پہلے شخص ہیں جو غار حرا میں جاکر مصروف عبادت ہوا کرتے تھے جب ماہ رمضان کا چاند دیکھتے حرا میں تشریف لے جاتے مسکینوں کو کھانا کھلاتے آپ کےدستر خوان سے پرندوں اور وحشی درندوں کے لئے بھی خوراک مہیا کی جاتی تھی۔ آپ کے جسم اطہر سے خالص کستوری کی خوشبو آتی تھی قریش کو جب قحط کی مصیبت گھیر لیتی تو وہ آپ کے وسیلہ سے بارش طلب کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے موسلادار بارش برساتا۔
 
شاہ حبشہ نے یمن فتح کرنے کے بعد اریاط کو اپنا گورنر مقرر کیا اور ابرہہ کو اس کا نائب متعین کیا۔ لیکن جلد ہی ان میں اقتدار کی کشمکش شروع ہوگئی چنانچہ دونوں کے لشکر جنگ کے لیے صف آرا ہوگئے۔ ابرہہ نے تجویز پیش کی کہ بجائے اس کے کہ ہم اپنی فوجوں کو لڑائیں اور عوام کو موت کے گھاٹ اتاریں بہتر یہ ہے کہ ہم آپس میں زور آزمائی کریں۔ ہم میں سے جو غالب آجائے ساری فوج اس کے پرچم کے نیچے جمع ہو جائے۔ اریاط نے ابرہہ کی تجویز کو پسند کیا دونوں اسلحہ سے آراستہ ہو کر میدان میں آئے اور باہمی جنگ شروع ہو گئی۔ جس میں ارباط مارا گیا اور اقتدار ابرہہ کو منتقل ہو گیا۔ اس نے شاہ حبشہ کو خوش کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اور انتہائی خوبصورت گرجا تعمیر کیا اور اپنے بادشاہ کو خط لکھا کہ میں چاہتا ہوں کہ جو لوگ مکہ میں حج کعبہ کے لئے جاتے ہیں ان کو یہاں حج کرنے کی دعوت دوں اور اگر وہ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے تو میں کعبہ کو پیوند خاک کردوں۔ جب کعبہ ہی موجود نہیں رہے گا تو لوگ خواہ مخواہ اس کنیسہ کا حج کرنے اور اس کا طواف کرنے کے لئے یہاں آنے لگیں گے۔ اہل عرب کو جب ابرہہ کے اس مذموم ارادے کا علم ہوا تو ان کے غیظ و غضب کی انتہانہ رہی چنانچہ بنی کنانہ کے ایک فرد نے اپنی ناراضگی کے اظہار کے لئے کنیسہ میں گیا اور فرصت پاکر وہاں قصائے حاجت کر کے اسے گندا کردیا۔ جب اس واقعہ کی اطلاع ابرہہ کو ملی تو اس کے سینے میں آتش انتقام بھڑک اٹھی اور بڑے جوش و خروش سے اس نے مکہ پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کردی۔ اہل یمن بھی کعبہ شریف کی دل سے عزت و تکریم کرتے تھے۔ انہوں نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے ابرہہ کے ساتھ جنگ کرنے کا عزم کر لیا۔ یمن کے ایک سردار ذونفر نے اپنی قوم کو ابرہہ کے ساتھ جنگ کی دعوت دی تا کہ وہ بیت اللہ شریف کو اس کی ناپاک کوششوں سے بچا سکے۔ فریقین میں زبردست جنگ ہوئی لیکن ذونفر اور اس کے ساتھیوں کو شکست ہوئی اور اس کو جنگی قیدی بنا کر ابرہہ کے سامنے پیش کیا گیا اس نے اسے قتل کرنے ارادہ کیا۔ ذونفر نے کہا اے بادشاہ! تو مجھے قتل نہ کر بلکہ میری زندگی تیرے لئے میرے قتل سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی۔ ابرہہ نے اس کی جان بخشی کی مگر اس کو مقید رکھا۔ اس کے بعد وہاں سے ابرہہ روانہ ہوا۔ بنی خشعم کے علاقے سے گزرا تو نفیل بن حبیب خثعمی نے قبائل عرب کو ساتھ ملا کر اس کے ساتھ جنگ کی لیکن اس دفعہ بھی فتح ابرہہ کو نصیب ہوئی۔ نفیل جب قیدی بنا کر اس کے سامنے پیش کیا گیا تو نفیل نے کہا اے بادشاہ مجھے قتل نہ کر سرزمین عرب میں میں تمہارے لئے راہمنائی کا کام کروں گا اور میں خثعم کے دوقبیلوں شہران اور ناھس کی طرف سے اظہار اطاعت کے لئے اپنے دونوں ہاتھ تیری خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
ابرہہ نے اس کو معاف کردیا۔ جب ابرہہ نے مکہ مکرمہ کی طرف پیش قدمی شروع کی تو نفیل بطور راہنما اس کے ہمراہ تھا۔ جب ابرہہ کا گرز طائف سے ہوا تو مسعود ثقفی قبیلہ ثقیف کے چند آدمیوں کے ہمراہ لے کر اس کی پیشوائی کے لئے نکلا اور اسے کہا اے بادشاہ ہم تیرے غلام ہیں ہم تیرے ہرحکم کی اطاعت کرنے والے ہیں ہمارے دلوں میں تیری مخالفت کا کوئی شائبہ نہیں اور ہمارا یہ معبد وہ نہیں جس کو گرانے کے لئے تو نکلا ہے جو مکہ میں ہے۔ ہم تمہارے ساتھ ایسا آدمی بھیجیں گے جو تمہاری راہنمائی کرے گا۔ طائف میں جو معبد تھا اس میں انہوں نے لات کا بت رکھا ہوا تھا۔ اس کی پرستش کی جاتی تھی اور اس کے کوٹھے کا طواف کیا جاتا تھا۔ اہل طائف نے ابرہہ کے ساتھ ابورغال نامی ایک شخص کو بھیجا تا کہ وہ اسے مکہ جانے کا راستہ بتائے۔ ابرہہ ابو رغال کی معیت میں طائف سے روانہ ہوا یہاں تک کہ مغمس پہنچا یہاں اس نے آرام کے لیے قیام کیا۔ ابورغال کی زندگی کی مہلت پوری ہو گئی اور وہ وہیں ہلاک ہو گیا۔ اور اسے وہیں زمین میں دفن کردیا گیا۔ اہل عرب جب بھی وہاں سے گزرتے ہیں تو ابورغال کی قبر پر سنگ باری کرتے ہیں۔
اس اثنا میں ابرہہ کے ایک حبشی فوجی افسر جس کا نام اسود بن مقصود تھا جو اس کے گھڑ سوار دستے کا افسر تھا۔ اسے مکہ کی طرف بھیجا۔ تہامہ کی چرگاہوں میں قریش اور دیگر قبائل کے جو اونٹ چررہے تھے ان کو ہانک کر وہ ابرہہ کے پاس لے آیا ان اونٹوں میں دوسو (200) اونٹ حضرت عبدالمطلب (آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا) کے بھی تھے۔ آپ اس وقت قریش کے سردار تھے۔ قریش کنانہ ہذیل کے قبائل نے ارادہ کیا کہ ابرہہ کا مقابلہ کریں۔ لیکن اس کی بے پناہ قوت کے سامنے اپنے آپ کو بے بس محسوس کیا اس لئے اس سے لڑائی کا ارادہ ترک کردیا ابرہہ نے اپنا خاص قاصد اہل مکہ کے طرف روانہ کیا اس کا نام حباطہ الحمیری تھا کہ تم جاو اور اس شہر کا جو رئیس ہے اس سے جاکر ملاقات کرو اور اسے یہ کہو کہ بادشاہ تمہیں کہتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ جنگ کرنے کے لئے نہیں آیا میں تو اس کعبہ کو گرانے کے لئے آیا ہوں۔ اگر تم میرے راستہ میں حائل نہ ہو تو مجھے تمہاری خونریزی کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور اگر وہ میرے ساتھ جنگ کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے میرے پاس لیے آنا۔ حباطہ جب مکہ میں داخل ہوا تو اس نے پوچھا کہ مکہ کا سردار کون ہے اسے بتایا گیا کہ عبدالمطلب بن ہاشم اپنی قوم کے سردار ہیں۔ یہ شخص ان کے پاس گیا اور ابرہہ کا پیغام پہنچایا حضرت عبدالمطلب نے کہ بخدا ہم اس کے ساتھ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہمارے پاس یہ طاقت ہے کہ اس کے ساتھ لڑائی کرسکیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حرمت والا گھر ہے۔ اس گھر کو اس کے خلیل ابراہیم علیہ اسلام نے تعمیر کیا ہے اگر وہ خود اس کی حفاظت کا بندوبست کرے تو یہ اس کا گھر ہے اور اس کا حرم ہے۔ اور اگر وہ خود ابرہہ کی مزاحمت نہ کرے اور اس کو اپنا گھر گرانے دے تو اس کی مرضی ہم میں یہ طاقت نہیں کہ اس کا مقابلہ کرسکیں۔ جب حباطہ کو یقین ہو گیا کہ اہل مکہ ابرہہ کے ساتھ جنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تو اس نے حضرت عبدالمطلب کو ابرہہ کے پاس جانے کو کہا۔ عبدالمطلب اپنے چند بیٹوں کے ہمراہ حباطہ کے ساتھ ابرہہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب اس کے لشکر میں پہنچے تو آپ نے ذونفر کے بارے میں پوچھا وہ آپ کا پرانا دوست تھا آپ کو اس کے پاس لے جایا گیا جہاں وہ محبوس تھا۔ آپ نے اسے کہا اے ذونفر جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے کیا اس میں تم ہمارے کسی کام آسکتے ہو۔ اس نے کہا میں ایک بے بس قیدی ہوں بادشاہ جب چاہیے مجھے موت کے گھاٹ اتار دے اس حالت میں میں تمہاری کیا خدمت بجالا سکتا ہوں۔ البتہ ابرہہ کے ہاتھی کا سائیس جس کا نام انیس ہے وہ میرا دوست ہے میں اس کو بلا کر آپ کا تعارف کرادیتا ہوں وہ بادشاہ سے آپ کی ملاقات کرادے گا ممکن ہے اس مصیبت سے نجات کی کوئی صورت نکل آئے چنانچہ اس نے انیس کو بلایا اور اسے عبدالمطلب کا تعارف کرایا کہ یہ قریش کے سردار ہیں اور مکہ کے تجارتی کارواں کے سربراہ ہیں ان کی سخاوت کی یہ کفیت ہے کہ ان کا دستر خواں ہر وقت بچھا رہتا ہے۔ انسان تو انسان پہاڑوں کی چوٹیوں پر بسیرا کرنے والے درندے بھی ان کے دستر خوان سے اپنے پیٹ بھرتے ہیں۔ بادشاہ کے ملازمین ان کے دوسو اونٹ ہانک کر لے آئے ہیں تم ان کو جو مدد کرسکتے ہو ضرور کرو۔ اس نے وعدہ کیا انیس ابرہہ کے پاس گیا اور عبدالمطلب کا تعارف کرایا اور ان کو ملاقات کی اجازت لے دی۔ حضرت عبدالمطلب صاحب حسن وجمال تھے۔ چہرے سے وجاھت اور شرافت کے آثار نمایاں تھے۔ ابرہہ نے جب آپ کو دیکھا آپ کی بڑی تعظیم کی بڑے آداب بجا لایا اور یہ پسند نہ کیا کہ خود تخت کے اوپر بیٹھے اور انہیں نیچے بٹھائے اور یہ بھی مناسب نہ سمجھا کہ ان کی اپنے ساتھ تخت پر بٹھائے۔ مبادا لشکر کے لوگ اس کا برا نہ منائیں۔ چنانچہ ابرہہ اپنے تخت سے نیچے اترا اور قالین پر بیٹھ گیا اور آپ کو بھی اپنے پہلو میں ساتھ قالین پر بٹھایا پھر ترجمان کو کہا ان سے پوچھو یہ کس کام کے لئے آئے ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ بادشاہ کےسپاہیوں نے میرے دوسو اونٹ پکڑ لئے ہیں وہ مجھے واپس دیے جائیں۔  ابرہہ نے ترجمان سے کہا کہ انہیں کہو کہ جب میں نے آپ کو دیکھا تھا تو بہت متاثر ہوا تھا لیکن جب آپ نے بات کی تو آپ کی قدرومنزلت میری آنکھوں سے گر گئی ہے۔ آپ دوسو اونٹوں کے بارے میں تو مجھ سے گفتگو کرتے ہیں لیکن اس گھر کے بارے میں کچھ نہیں کتہے جس کو میں گرانے کے لئے آیا ہوں۔ حالانکہ وہ گھر آپ کا اور آپ کے آباواجداد کا دین ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اونٹوں کا مالک ہوں اس گھر کا بھی ایک مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت فرمائے گا۔ ابرہہ نے بڑے غرور سے کہا کوئی بھی میری زد سے کعبہ کو نہیں بچا سکتا۔ آپ نے کہا تو جان اور وہ جانے۔ حضرت عبدالمطلب ابرہہ سے ملاقات کے بعد واپس آگئے اور قریش کے سارے حالات سے آگاہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ مکہ سے نکل جائیں اور پہاڑوں کی غاروں اور چوٹیوں میں پنا گزیں ہو جائیں۔ مبادا ابرہہ کا لشکر مکہ میں داخل ہو ان کو ہدف ستم بنائے۔ پھر اپنے ساتھ چند آدمیوں کو لے کر خانہ کعبہ کے پاس آئے اور اس کے حلقہ کو پکڑ کر اللہ تعالیٰ کی جناب میں فریاد کرنے لگے اور ابرہہ اور اس کے لشکر پر فتح و نصرت کی درخواست کرنے لگے۔ اس وقت حضرت عبدالمطلب نے بارگاہ الہی میں درخواست کی۔
 
"آے اللہ بندہ بھی اپنے کجاوے کی حفاظت کرتا ہے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی صلیب کل تیرے گھر پر غالب آجائے اور نصب کردی جائے اور اگر تو ان کو اور ہمارے قبلہ آزاد چھوڑنے والا ہے تو جس طرح تیری مرضی ہو تو اس طرح کر۔"
 
اس دعا کے بعد حضرت عبدالطلب بھی ایک پہاڑ پر چلے گئے۔ علامہ ملا علی قاری حضرت عبدالطلب کے فضائل میں لکھتے ہیں۔ 
 
"جب قریش حرم سے نکل گئے اور اصحاب فیل نے حملہ کیا تو حضرت عبدالمطلب نے کہا بخدا اللہ کے حرم سے ہرگز نہیں نکلوں گا تاکہ اس کے علاوہ کسی اور کے پاس عزت تلاش کروں۔ میں تو اللہ تعالی کے بدلے میں کسی اور چیز کا متمنی نہیں۔"
 
دوسرے دن صبح ابرہہ نے مکہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اپنے ہاتھی کو جس کا نام محمود تھا اور اپنے لشکر کو تیار کیا۔ ابرہہ نے کعبہ کو منہدم کرنے کرنا پختہ ارادہ کرلیا تھا۔ اور اس کے بعد وہ یمن واپس جانا چاہتا تھا۔ جب انہوں نے ہاتھی کو مکہ کی طرف متوجہ کیا تو نفیل بن حبیب آیا اور ہاتھی کے پہلو کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ اس کا کان پکڑ لیا پھر اسے کہا۔
 
"کہ اے محمود (ہاتھی کا نام) بیٹھ جاو یا جدھر سے آئے ہو ادھر لوٹ جاو کیونکہ تو اللہ تعالیٰ کے مقدس شہر میں ہے۔"
 
یہ سنتے ہی ہاتھی بیٹھ گیا۔ نفیل بن حبیب وہاں سے نکلا اور دوڑتا ہوا پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا ۔ انہوں نے ہاتھی کو مارا تاکہ وہ کھڑا ہو لیکن اس نے کھڑا ہونے سے انکارکردیا پھر انہوں نے اس کے سر میں تبرزین سے چوٹیں لگائیں لیکن پھر بھی وہ نہ اٹھا پھر انہوں نے اس کے پیٹ کے نیچے ایسے عصا سے چرکے لگائے جس کا سنان ٹیڑھا کیا ہوا تھا۔ اس سے ہاتھی لہولہاں ہو گیا لیکن پھر بھی اٹھنے کا نام نہ لیا۔ پھر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ بھاگنے لگا۔ پھر شام کی طرف موڑا پھر بھی بھاگنے لگا۔ پھر مشرق کی طرف رخ کیا پھر بھی بھاگنے لگا۔ جب پھر مکہ کی طرف انہوں نے اس کا منہ کیا تو پھر بیٹھ گیا اسی اثنا میں ابابیل کی ایک ٹکڑی سمندر کی طرف سے اڑتی ہوئی آئی ہر پرندے کی چونچ اور دونوں پنجوں میں ایک ایک کنکری تھی۔ جس کی مقدار چنے اور مسور کے دانوں کے برابر تھی۔ جس کے سرپر وہ گرتی اس کے فولادی خود کو چیرتی ہوئی اس کے جسم کے پار ہوجاتی۔ لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور راستہ ڈھونڈنا چاہتے تھے جس پر چل کر وہ آئے تھے لیکن وہ انہیں نہ مل نہیں رہا تھا۔ انہوں نے نفیل بن حبیب جو ان کا راہنما بن کر ان کے ساتھ آیا تھا اسے تلاش کیا تاکہ وہ انہیں یمن کا رستہ بتائے مگر اس کا تو وہاں نام ونشان ہی نہ تھا۔ وہ تو بھاگ کر پہاڑ کی چوٹی پر چلا گیا تھا اور ان پر خدا کے عذاب کا ہولناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس وقت اس نے کہا۔
 
"اب بھاگنے کا راستہ کہاں جب کہ اللہ تمہارے تعاقب میں ہے اور ہونٹ کٹا ابرہہ مغلوب ہے اب اسے غلبہ نصیب نہیں ہوسکتا۔"
 
نفیل کے چند اور شعر بھی جس میں اس نے کہا۔
 
"میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرنے لگا جب میں نے پرندوں کے اس جھنڈ کو دیکھا اور جب ہم پر سنگ باری ہورہی تھی تو میں لرزہ براندام تھا۔"
" اس لشکر کا ہر فرد پوچھ رہا تھا نفیل کہاں ہے گویا ان حبشیوں کا مقروض ہوں اس لئے مجھ پر الزام تھا کہ میں اس آڑے وقت میں ان کی خدمت کرتا۔"
 
کہتے ہیں ابرہہ کے لشکر میں تیرا ہاتھی تھے محمود کے علاوہ سارے ہلاک ہوگئے اور محمود نے کیونکہ حرم شریف کی طرف پیش قدمی سے انکار کیا تھا اس لیے وہ بچ گیا۔ وہ وہاں سے بھاگ نکلے مگر جس کسی کو بھی  وہ پتھر لگا وہ سلامت نہ بچا۔ ابرہہ کی حالت بڑی قابل رحم تھی۔ اس کو لے کر وہاں سے بھاگے۔ لیکن راستہ میں اس کا انگ انگ گل گل کر گرنے لگا۔ اس کے جسم میں پیپ اور خون سرایت کرگیا تھا۔ جس سے غضب کی بو آتی تھی۔ اور جب اس کے لے کر وہ صنعا (یمن کا دارالخلافہ) پہنچے تو وہ پرندے کے ایک چوزے کی طرح تھا لیکن مرنے سے پہلے اس کا سینہ پھٹا۔ اس کا دل باہر نکلا اس طرح وہ ایک اذیت ناک موت سے دوچار ہوا۔  یہ واقعہ یکم محرم کو پیش آیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کریں یا اپنے کمنٹ پوسٹ کریں

اس قلم کار کے پوسٹ کیے ہوئے دوسرے بلاگز / کالمز
ویلنٹائن ڈے کیا ہے۔
11/02/2018  (10 مہینے پہلے)   331
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : ایڈمن

بسنت میلہ (کائیٹ فیسٹیول) اور ہماری روایات
04/02/2018  (10 مہینے پہلے)   465
کیٹیگری : فن اور ثقافت    قلم کار : ایڈمن

سرفس ویب، ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کیا ہیں۔
29/01/2018  (11 مہینے پہلے)   606
کیٹیگری : ٹیکنالوجی    قلم کار : ایڈمن

ذرہ نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
21/01/2018  (11 مہینے پہلے)   191
کیٹیگری : سپورٹس اور گیمنگ    قلم کار : ایڈمن

حضرت حافظ محمد اسحٰق قادری رحمتہ اللہ علیہ
15/01/2018  (11 مہینے پہلے)   392
کیٹیگری : تاریخ    قلم کار : ایڈمن

وقار انبالوی ایک شاعر، افسانہ نگار اور صحافی
11/01/2018  (11 مہینے پہلے)   679
کیٹیگری : تحریر    قلم کار : ایڈمن

روزانہ ذلیل ہوتی ہماری عوام اور ان کی سوچ
07/01/2018  (11 مہینے پہلے)   181
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : ایڈمن

جامعہ دارالمبلغین حضرت میاں صاحب
11/12/2017  (12 مہینے پہلے)   426
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

ناموس رسالت اور ہمارا ایمان
21/11/2017  (1 سال پہلے)   404
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

بارکوڈز کیا ہیں اور یہ کیسے کام کرتے ہیں۔
30/10/2017  (1 سال پہلے)   543
کیٹیگری : ٹیکنالوجی    قلم کار : ایڈمن

ٍصحافتی اقتدار اور ہماری ذمہ داریاں
12/09/2017  (1 سال پہلے)   323
کیٹیگری : تحریر    قلم کار : ایڈمن

پوسٹ آفس (ڈاکخانہ) شرقپور شریف
29/03/2017  (1 سال پہلے)   1050
کیٹیگری : دیگر    قلم کار : ایڈمن

ہمارا معاشرہ اور کمیونٹی سروس
24/03/2017  (1 سال پہلے)   684
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : ایڈمن

حاجی ظہیر نیاز بیگی تحریک پاکستان گولڈ میڈلسٹ
19/03/2017  (1 سال پہلے)   766
کیٹیگری : تاریخ    قلم کار : ایڈمن

جامعہ حضرت میاں صاحب قدس سرہٰ العزیز
16/03/2017  (1 سال پہلے)   672
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

آپ بیتی
15/03/2017  (1 سال پہلے)   846
کیٹیگری : سیاحت اور سفر    قلم کار : ایڈمن

جامعہ مسجد ٹاہلی والی
13/03/2017  (1 سال پہلے)   1010
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

ابوریحان محمد ابن احمد البیرونی
11/03/2017  (1 سال پہلے)   895
کیٹیگری : سائنس    قلم کار : ایڈمن

حضرت سیدنا سلمان الفارسی رضی اللّٰہ عنہ
02/03/2017  (1 سال پہلے)   701
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

انٹرنیٹ کی دنیا
01/03/2017  (1 سال پہلے)   691
کیٹیگری : ٹیکنالوجی    قلم کار : ایڈمن

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
28/02/2017  (1 سال پہلے)   689
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

خطہ ناز آفریں - شرقپور
21/02/2017  (1 سال پہلے)   830
کیٹیگری : تحریر    قلم کار : ایڈمن

پاکستان میں صحافت اور اس کا معیار
21/02/2017  (1 سال پہلے)   738
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : ایڈمن

امرودوں کا شہر شرقپور
11/02/2017  (1 سال پہلے)   2102
کیٹیگری : خوراک اور صحت    قلم کار : ایڈمن

دنیا کا عظیم فاتح کون ؟
30/01/2017  (1 سال پہلے)   514
کیٹیگری : تاریخ    قلم کار : ایڈمن

حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ
15/10/2016  (2 سال پہلے)   2556
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

حضرت میاں غلام اللہ ثانی لا ثانی رحمتہ اللہ علیہ
15/10/2016  (2 سال پہلے)   2693
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

تبدیلی کیسے ممکن ہے ؟
06/10/2016  (2 سال پہلے)   596
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : ایڈمن

شرقپور کی پبلک لائبریری اور سیاسی وعدے
26/09/2016  (2 سال پہلے)   862
کیٹیگری : تعلیم    قلم کار : ایڈمن

شرقپور میں جماعت حضرت دواد بندگی کرمانی شیرگڑھی
17/08/2016  (2 سال پہلے)   1975
کیٹیگری : مذہب    قلم کار : ایڈمن

تحریک آزادی پاکستان اورشرقپور
14/08/2016  (2 سال پہلے)   1152
کیٹیگری : تاریخ    قلم کار : ایڈمن

اپنا بلاگ / کالم پوسٹ کریں

اسی کیٹیگری میں دوسرے بلاگز / کالمز

جامعہ دارالمبلغین حضرت میاں صاحب
11/12/2017  (12 مہینے پہلے)   426
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب

ناموس رسالت اور ہمارا ایمان
21/11/2017  (1 سال پہلے)   404
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب

حضرت میاں شیر محمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ
21/11/2017  (1 سال پہلے)   314
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب

کلمہ پڑھا ہوا ہے !!
18/03/2017  (1 سال پہلے)   614
قلم کار : توقیر اسلم
کیٹیگری : مذہب

جامعہ حضرت میاں صاحب قدس سرہٰ العزیز
16/03/2017  (1 سال پہلے)   672
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب

جامعہ مسجد ٹاہلی والی
13/03/2017  (1 سال پہلے)   1010
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب

حضرت سیدنا سلمان الفارسی رضی اللّٰہ عنہ
02/03/2017  (1 سال پہلے)   701
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : مذہب


اپنے اشتہارات دینے کیلے رابطہ کریں