فیض یافتگان شیر ربانی رحمة اللہ علیہ

19/10/2016  (3 سال پہلے)   1065    کیٹیگری : تاریخ    قلم کار : فاروق محی الاسلام ولد حاجی محمد الیاس

فیض یافتگان شیرربانی میاں اللہ بخش گرداور- ستمبر 1874 ء کے مہینے میں چوتهی جماعت کے دو طالب علم اپنے استاد کے سامنے املا کی تختیاں لئے کهڑے تهے- استاد نے دونوں کی تختیاں دیکهیں- پهر انہیں جماعت کے دوسرے بچوں کو دکهایا- اور کہا- دیکهو! بچو! یہ بچے بهی آپ کے ساتهہ پڑهتے ہیں- ان کی لکهائی دیکهو- کس قدر خوشخط ہے- اگر تم بهی کوشش کرو- تو ایسا لکهہ سکتے ہو- پهر دونوں بچوں کو تختیاں واپس کر دیں- ایک تختی پر استاد نے 9 نمبر دیے جبکہ دوسری تختی پر 7 نمبر تهے- اگرچہ ان دونوں طالب علموں کی تختیوں کے نمبروں میں فرق تها- مگر دونوں دوسرے بچوں کے لئے نمونہ تهے- 9 نمبر والی تختی جس لڑکے کی تهی اس کا نام شیر محمد تها- جبکہ 7 نمبر والی تختی کا مالک اللہ بخش تها- الله بخش نے شیر محمد سے کہا- یار ! تمہارا خط اس لئے اچها ہے کہ تم قلم اچها تراش لیتے ہو- برائے مہربانی آئندہ آپ میرا بهی قلم تراش دیا کرنا- اگلے دن املا لکهنے سے پہلے شیر محمد نے دو قلم بنائے- اور الله بخش سے کہا - یار ! تم جو قلم لینا چاہتے ہو- لے لو- تا کہ تم یہ خیال نہ کرو کہ میں نے تمہارا قلم لا پرواہی سے تراشا ہے- الله بخش نے ان دونوں میں سے ایک قلم لے لیا- مگر پهر بهی نمبروں میں وہی تضاد تها- شیر محمد نے الله بخش سے کہا- بهائی! اچهے قلم کے ساتهہ ساتهہ مسلسل لکهتے رہو اور بار بار لکهتے رہو- الله بخش ریاضی میں تیز تها- شیر محمد کی فارسی اچهی تهی- نمبروں کے اس طرح کے تضاد نے ان دونوں میں دوستی کے رشتے کو مظبوط بنا دیا- دونوں نے آٹهہ آٹهہ جماعتیں پڑهیں- چونکہ آگے پڑهنے کا شرقور شریف میں اس وقت تک انتظام نہ تها لہذا تعلیم کا سلسلہ یہیں منقطع ہوا- مگر دوستی کا سلسلہ جوں کا توں قائم رہا- دونوں میں بے تکلفی تهی- تاہم دونوں کی بے تکلفی میں یاوہ گوئی نے جنم نہیں لیا- اگر کبهی الله بخش سے اخلاقیات کے دائرے سے باہر بات ہوئی بهی تو شیر محمد نے فورا انہیں ٹوک دیا- شیر محمد کہتے- بهائی الله بخش! تهوڑی باتوں میں فائدہ ہے گفتگو میں احتیاط برتی جا سکتی ہے- زیادہ باتوں میں بے احتیاطی ہو جاتی ہے- جو دوسروں کی ناگواری کا باعث بن سکتی ہے- یہ تها اخلاقیات کا اعلی معیار جو اس وقت کے دوستوں میں اکثر ہوا کرتا تها- آٹهویں جماعت پاس کرنے کے بعد الله بخش دنیا داری کے جهمیلوں میں پهنس گئے- اور شیر محمد کا رحجان دینی کاموں کی طرف ہو گیا- پہلے بهی شیر محمد دین کی طرف زیادہ مائل تهے- آگے چل کر الله بخش- ( " میاں الله بخش گرداور" ) بن گئے اور شیر محمد - (" اعلی حضرت میاں شیر محمد ") کے نام سے موسوم ہوئے- یہ مستجاب الدعوات ہو گئے- جبکہ الله بخش دوسرے عام لوگوں کی طرح دعاوں کے حاجت مند بن گئے- یہ دوستی کا رشتہ اتنا با وقار اور مضبوط تها کہ الله بخش نے اپنے بیٹے جو کہ 1882 ء میں پیدا ہوا- اس کا نام شیر محمد ہی رکهہ دیا- الله بخش نے پٹوار کا کورس ایک سال میں مکمل کیا- اور سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے- اور 1882 ء میں بحیثیت پٹواری ملازمت کا آغاز کیا اور ننکانہ صاحب کے حلقے میں تعینات ہوئے- چونکہ اچهی صلاحیتوں کے مالک تهے- اس لئے آپ نے گرداوری کا امتحان دینے کا فیصلہ کیا- ساری توجہ اس امتحان پر مبذول کر دی اور پهر گرداوری کے امتحان میں پنجاب بهر میں اول آئے- اس نتیجے کی وجہ سے انہیں تحصیل راجن پور میں بحیثیت تحصیلدار تعین کردیا گیا جو بعد میں میجسٹریٹ کے عہدے کے لئے نامزد ہوئے- کیونکہ راجن پور اس زمانے کے سفری انتظامات کی وجہ سے گهر سے دور لگتا تها اور نوکری کافی کٹهن تهی- میاں الله بخش کی نوکری کیونکہ گهر سے دور تهی اس لئے ان کی خواہش تهی کہ گهر کے قریب تبادلہ ہو جائے یا تحصیل ننکانہ صاحب واپس بهیج دیا جاوں- آپ حضرت میاں شیر محمد رحمة الله الية- کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کرنے کی عرض کرتے ہیں- حضرت صاحب کی کرامت کہ دعا بارگاہ رب العزت میں قبول ہوئی اور آپ کو پهر ننکانہ صاحب میں بهیج دیا گیا- اور آفس قانون گو کے عہدے پر تعین کر دیے گئے- نہ صرف ننکانہ صاحب بلکہ تحصیل چونیاں بهی آپ کے تحت کر دی گئی- دونوں تحصیلوں میں بندوبست داری کا کام 1911ء یا غالباء 1912 ء میں میاں الله بخش کی نگرانی میں مکمل ہوا- آپ عموما سفر میں رہتے- علاوہ ازیں کام کی زیادتی کی وجہ سے اکثر نماز میں کوتاہی ہو جاتی- اس بات کی اطلاع میاں الله بخش کے بیٹے شیر محمد نے ایک دن حضرت میاں شیر محمد رحمة کی خدمت میں کر دی- جو میاں شیر محمد رحمة کے مریدوں میں سے بهی تهے- آپ نے فرمایا اپنے ابا جان کو کہنا کہ ہم نے یاد کیا ہے- چنانچہ ایک دن دونوں باپ بیٹا حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے- آب گفتگو کا آغاز اس بات سے ہو سکتا تها کہ الله بخش آپ کے بیٹے نے شکایت کی ہے- کہ آپ نماز میں کوتاہی کرتے ہو- اور اس بات میں بیٹے کی شکایت پر باپ کی سبکی ہوتی تهی- آپ نے بیٹے کے لئے باپ کا احترام ملحوظ خاطر رکها- اور اس شکایت کا ذکر تک نہیں کیا- جیسے بات ہوئی ہی نہ ہو- بلکہ آپ اپنے پرانے دوست کے استقبال میں کهڑے ہو گئے اور بڑی محبت سے گلے ملے- حال حقیقت پوچهنے کے بعد فرمایا نمازیں تو پڑهتے ہی ہو گے- الله بخش نے جواب میں کہا بس صبح اور شام کی ہی پڑهہ سکتا ہوں- آپ نے بڑی حیرانگی سے پوچها- الله بخش! اگر آپ ایک نماز کا انعام 5 روپے سمجهو تو تم 25 میں سے 10 روپے لیتے ہو اور روزانہ 15 روپے کا نقصان اٹها رہے ہو- نہ جانے حضرت میاں صاحب کی اس بات میں کیا تاثیر تهی کہ الله بخش پکے نمازی بن گئے- با جماعت نماز ادا کرتے بلکہ تہجد بهی فوت نہ ہوتی تهی- اس کے ساتهہ ساتهہ ان کا دل گواہی دینے لگا- کہ حضرت میاں صاحب دل کے رازوں سے واقف ہیں- یہ تاثر اس وجہ سے پختہ ہوا- کہ ایک دن باقی آئندہ

سوشل میڈیا پر شیئر کریں یا اپنے کمنٹ پوسٹ کریں

اس قلم کار کے پوسٹ کیے ہوئے دوسرے بلاگز / کالمز
دعائیہ تقریب
10/03/2017  (2 سال پہلے)   484
کیٹیگری : خاندان    قلم کار : فاروق محی الاسلام ولد حاجی محمد الیاس

اپنا بلاگ / کالم پوسٹ کریں

اسی کیٹیگری میں دوسرے بلاگز / کالمز

حضرت حافظ محمد اسحٰق قادری رحمتہ اللہ علیہ
15/01/2018  (1 سال پہلے)   651
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : تاریخ

حاجی ظہیر نیاز بیگی تحریک پاکستان گولڈ میڈلسٹ
19/03/2017  (2 سال پہلے)   1038
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : تاریخ

تحریک آزادی پاکستان اورشرقپور
14/08/2016  (3 سال پہلے)   1529
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : تاریخ


اپنے اشتہارات دینے کیلے رابطہ کریں