شرقپور بند اور دریائے راوی

07/10/2016  (3 سال پہلے)   711    کیٹیگری : تاریخ    قلم کار : فاروق محی الاسلام ولد حاجی محمد الیاس
 یہ 1971 کا دور تها جب سقوط ڈهاکہ کے بعد جناب ذوالفقار علی بهٹو کو حکومت منتقل ہوئی - کیونکہ حکومت ایک مارشل لاء ایڈمینسٹیٹر جنرل یحیی خان سے منتقل ہوئی تهی اس لیے بهٹو صاحب تاریخ کے پہلے اور اب تک کے آخری مارشل لاء ایڈمینسٹیٹر مقرر ہوئے جنہوں نے بعد میں دستور سازی کے عمل تک صدر پاکستان کا عہدہ سنبهالے رکها - انہوں نے لاهور میں 1972 کے اوائل میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کروائی اور سقوط ڈهاکہ کے غم سے قوم کو نکالا- اسی سال شرقپور شہر کو دریائے راوی سے انتہائی خطرہ لاحق ہو گیا تها- دریا اپنی گزرگاہ کو پرانی بهینی کی طرف تبدیل کررہا تها- اور شرقپور کے زیادہ تر لوگ اس خطرناک صورت حال سے بے خبر تهے- 
اسی دوران دریا کے دوسرے کنارے میں آباد 35 دیہاتوں کے لوگ جو ہر سال سیلاب میں ڈوب جاتے تهے- جانے انجانے میں شرقپور بند کی تعمیر کی مخالفت کرتے رہتے تهے جن میں سر فہرست حاجی اکبر المعروف اکبر ڈهانے والے قابل ذکر ہیں- حاجی اکبر اکثر میرے پردادا میاں الله بخش گرداور مرحوم کے احسانات کا ذکر اکثر میرے والد محترم کے ساتھ کیا کرتے تهے مگر یہ ظاہرا باتیں تهیں اندر سے وہ شرقپور بند کے سخت مخالفین میں سے تهے- اور یہ شاید فطری بات بهی ہو سکتی تهی کیونکہ ہر سال دریا ہم سب کو سیلاب سے متاثر کرتا رہتا تها اس دوران ان کی کچه لسانی جهڑپیں بهی والد محترم کے ساتھ ہوتی رہتی تهیں اور دهمکیاں بهی اکثر اوقات دے دیا کرتے تهے ---لیکن میرے والد محترم حاجی محمد الیاس شرقپوری ان سب سے بے پرواہ دریا کی پوری صورت حال سے باخبر تهے- اس وقت انہوں نے ارادہ کر لیا کہ ہر صورت اپنے شہر کو بچائیں گے- لحاذا انہوں نے اس وقت اپنے چند مخلص دوستوں کو اکٹها کیا جن میں خواجہ احمد نور مرحوم- جناب افضال احمد سلیمی، شیخ عبدالغفور اور دیگر دوست شامل تهے-آپ نے اس وقت کے چند نوجوانوں کو منظم کیا جن میں حاجی ظہیر نیازبیگی کے صاحبزادے توقیر احمد گوندل- سٹوڈنٹ ویلفیر ایسوسی ایشن کے صدر جناب شیخ روءوف احمد شاداب- یہ خاکسار فاروق محیی الاسلام  جناب جمیل احمد سلیمی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں- ان سب کے ذمے شہر کے لوگوں کو اس صورت سےآگاہ کرنا تها- اس کے علاوہ ایک اور قابل ذکر شخصیت اس وقت کے ٹیلی فون آپریٹر جناب غلام جیلانی کی خدمات کو بهی فراموش نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے مختلف اداروں کے سربراهان کو حاجی صاحب کی لکهی ہوئی تاریں ارسال کیں - حاجی صاحب کی دلچسپی کی ایک وجہ یہ بهی تهی کہ ہماری زمینوں کو سب سے پہلے دریا برد ہونے کا خطرہ تها-ان کو زمینوں کے ساتهہ ساتهہ شہر کی بهی فکر لاحق تهی- اب اگلے مرحلے میں حکام بالا تک آواز پہنچانا تها جو جیلانی صاحب نے اپنے ماہرانہ انداز میں کیا-
 وہ ایک ایسا دور تها کہ جب پاکستان کے حکمران بهی مخلص ہوا کرتے تهے- حاجی محمد الیاس صاحب کیوں کہ اس وقت ملٹری اکاوئنٹس سے نئے نئے ریٹائر ہوئے تهے اس لئے آپ کو سرکاری زبان میں خط و کتابت پر عبور حاصل تها- جو کہ انگریزی زبان میں تهی- اس ساری صورت حال کو دیکهتے ہوئے آپ نے ایک نہایت ہی موثر ٹیلی گرام تحریر فرمائی اور غلام جیلانی کوکہا کہ اس کو ذوالفقار علی بهٹو جو صدر پاکستان تهے اور بعد میں وزیر اعظم بنے کو کسی طرح براہ راست پہنچائے- جیلانی صاحب نے بہت محنت کے بعد آخر کار یہ ٹیلی گرام صدارتی محل تک پہنچاہی دیا- اور بهٹو صاحب کا خلوص کہ اس مختصر مگر انتہائی پر اثر ٹیلی گرام کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بغیر وقت ضائع کیے اس وقت کے گورنر پنجاب جناب غلام مصطفی کهر کو ساتھ لیا اور شرقپور اور گردو نواح کا خفیہ اور طوفانی فضائی معائنہ کر ڈالا-
 حاجی صاحب نے اپنی تحریروں میں جو بهی تصویر کشی کی تهی بهٹو صاحب نے اور اس علاقے کو عین اسی طرح پایا- لحاذا بهٹو صاحب نے غلام مصطفی کهر کو ہدایات دیں کہ فورا بند باندهنے کے انتظامات کیے جائیں- کهر صاحب نےبهی بغیر کوئی لمحہ ضائع کئے متعلقہ حکام کو رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کر دیے- کهر صاحب بهی اس میں ذاتی دلچسپی لینے لگے تهے اس لئے رپورٹ وصول کرنے کے فورا بعد بند باندهنے کے احکامات جاری کر دیں- یہ غالبا مئی 1972 کا وقت ہو گا کہ شدید بارشوں کی وجہ سے ایک بار پهر دریا میں شدید طغیانی آئی اور دریا نے اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے پرانی بهینی کو پوری طرح نگل لیا- مجهے آج بهی وہ منظر یاد هے جب ہمارے مزارعے جناب غلام حسن چهچهر مرحوم اور ان کے دیگر عزیزو اقارب کے گهر دریا برد هو رہے تهے اور لوگ بے بس تماشہ دیکهہ رہے تهے- کسی کوگهر کا سامان تک اٹهانے کا موقع نہیں ملا تها اور یوں تقریبا پورا گاوں دریا برد ہو گیا - اس وقت دریا کا پانی شرقپور شریف کی گلیوں اور بازاروں تک پہنچ چکا تها- اب ایک بار پهر شرقپور کے صفحہ ہستی سے مٹنے کے خطرات شدت سے منڈلانے لگے تهے- حاجی محمد الیاس مرحوم نے ایک بار پهر شرقپور کے انہی نوجوانوں کو اکٹها کیا اور اس وقت کے چند مقامی اخباری نمائیندوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہا- اور حاجی محمد الیاس صاحب نے پهر ایک بار قلم اٹهایا اور بهٹو صاحب کو باور کروانے کے لیے ایک اور تار ارسال کر دیا- اس وقت پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت بن چکی تهی اور ذوالفقار علی بهٹو پاکستان کے وزیر اعظم بن چکے تهے اور اسی طرح غلام مصطفی کهر پنجاب کے وزیر اعلی کا منصب سنبهال چکے تهے- ان دنوں والد محترم کو پیپلز پارٹی شرقپور کا صدر بهی چن لیا گیا تها جس کا فائدہ یہ ہوا کہ ارباب اختیار تک رسائی میں آسانی پیدا ہوئی- یہاں ایک اور دلچسپ ہستی کا ذکر کرتا چلوں اس وقت جناب ملک سرفراز ہمارے حلقہ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن جیتے اور پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی- ان کی بطور ممبر اسمبلی خدمات یہ رہی کہ بڑے پیمانے پر بند کی مخالفت نہ ہو سکی- اب ایک دفعہ پهر حاجی محمد الیاس نے بهرپور ٹیلی گرام بواسطہ ملک سرفراز کے ارسال کی-  اس دفعہ حاجی محمد الیاس صاحب کی ٹیلیگرام نے جو کام دکهایا وہ ناقابل فراموش تها- جیسے ہی پانی اترا اور دریا کچهہ تهما تو سب سے پہلا جو کام ہوا وہ بامناں والے کهو پر جو سرکاری اراضی پڑی تهی اور جہاں ہم نے 1965 کی جنگ کے دوران درختوں کے نیچے اپنی کلاسیں جاری رکهی تهیں جو کہ اس وقت کے گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر جناب خواجہ منیر احمد کی سربراہی میں درختوں کے نیچے لگا کرتی تهیں تا کہ ہوائی حملوں سے محفوظ رہا جائے، وہاں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو عارضی طور پر شامیانے لگا کر آباد کیا گیا جہاں نئی بهینی اب مستقل آباد ہے- دریائے راوی کی تباہ کاریوں کی وجہ سے شرقپور بند اب بالکل ناگزیر ہو چکا تها- ان دنوں کی ایک اور شخصیت حاجی عطاء رسول مرحوم ٹهیکیدار - جو ضلع  میانوالی کے رہنے والے تهے اور جنہوں اس بند کی تعمیر کا ٹینڈر حاصل کیا تها- وہ بهی اس بند میں خاص دلچسپی لینے لگے تهے اور سرکاری خط و کتابت کے لئے حاجی محمد الیاس صاحب سے اکثر مدد مانگ لیتے تهے- جو کہ بعد میں شرقپور کی محبت میں ایسے گرفتار ہوئے کہ یہیں پہ مستقل سکونت اختیار کر لی- حاجی عطاء رسول بهی حاجی محمد الیاس کے گہرے دوست بن گئے تهے اورانہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک اپنی دوستی نبهائی- حاجی عطاء رسول نے ان دنوں اس بند کا ٹهیکہ حاصل کیا اور بڑی بہادری کے ساتهہ  فورا ہی غالبا 23 اپریل 1973 کو شرقپور بند کا آغاز کر دیا اور دریا کو واپس اپنی پرانی گزرگاہ کی طرف موڑ دیا گیا- شرقپور بند اس کے بعد آنے والے سیلاب تک تقریبا 1974 تک بمعہ تمام پشتے مکمل ہوا اور شرقپور صفحہ ہستی سے مٹنے سے بچ گیا- یہ وہ بے لوث خدمات تهیں جو حاجی محمد الیاس اور ان کے ساتهیوں کی اپنے محبوب قصبے شرقپور کے لیے تهیں- اور شرقپور شریف کو دریا برد ہونے سے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر گیں-
سوشل میڈیا پر شیئر کریں یا اپنے کمنٹ پوسٹ کریں

اس قلم کار کے پوسٹ کیے ہوئے دوسرے بلاگز / کالمز
دعائیہ تقریب
10/03/2017  (2 سال پہلے)   492
کیٹیگری : خاندان    قلم کار : فاروق محی الاسلام ولد حاجی محمد الیاس

اپنا بلاگ / کالم پوسٹ کریں

اسی کیٹیگری میں دوسرے بلاگز / کالمز


اپنے اشتہارات دینے کیلے رابطہ کریں