ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

09/01/2018  (1 سال پہلے)   434    کیٹیگری : تحریر    قلم کار : انور عباس انور
 
پاکستان کے سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے گزشتہ دو تین سال سے ہر سال سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کی یاد بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ اس یادگاری مگر سوگواری ایونٹ میں پوری پاکستانی قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ آرمی پبلک سکول پر درندوں کے حملے میں جام شہادت نوش فرمانے اور زخمی ہونے والے معصوم فرشتوں اور ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں شمعیں روشن کی جاتی ہیں، تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ دردندوں کی مذمت میں اردو انگریزی کی لغت میں شامل تمام الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں اور شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور اس عزم اور عہد کو دہرایا جاتا ہے کہ شہدا کے بہے لہو کی قیمت وصول کی جائے گی اور ان کے مشن کی تکمیل تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔
آرمی پبلک سکول کے شہدا ئے کی قربانیوں کے اعتراف کے طور پر ان کے نام سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو منسوب کیا گیا ہے۔ میرے اپنے شہر کے گورنمنٹ پائلٹ ہائرسکنڈری سکول شرقپور شریف کو ہارون شہید سکول کا نام دیدیا گیا ہے۔ کرم ایجنسی کے علاقے ہنگو سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری و فرائض ادا کرتے ہوئے سینکڑوں معصوم بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچانے والے اعتزاز حسن شہید کی چھ جنوری کو چوتھی برسی خاموشی سے گزرگئی۔ یہ اعتزاز حسن شہید وہی ہے جو 6 جنوری 2014 کی ٹھٹھرتی صبح لحاف اورھے بستر پر لیٹا ماں سے سکول نہ جانے کی ضد کرتا سولہ سالہ اعتزاز حسن ماں کے دباؤ پر سکول جانے کے لیے نکلتا ہے ماں کے ساتھ بحث و تکرار میں سکول سے لیٹ بھی ہوجاتا ہے ۔ جب معصوم اعتزاز حسن اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ سکول کے باہر پہنتا ہے تواسے ایک 26 25/ سال کا ایک چادر اوڑھے مشکوک نوجوان دکھائی دیتا ہے ۔اور اسے جا دبوچتا ہے جس کے بعد زور دار دھماکہ ہوتا ہے ۔ سولہ سالہ اعتزاز حسن کی زندگی کا چراغ گل ہوچکا تھا لیکن وہ ابراہیم زئی سکول کے اپنے ساتھیوں کو نئی زندگی عطا کرگیا۔
آج اس اعتزاز حسن شہید کے والدین حکمران سے گلہ کرتے ہیں کہ ان سے کیے گئے وعدے تاحال پورے نہیں کیے گئے۔ یہ وعدے کیا ہیں سکولوں ، سڑکوں اور عمارتوں کو شہید کے نام سے منسوب کرنا تھا۔ حکومتوں کی جانب سے شہید کے اہل خانہ سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنا افسوس ناک بھی ہے اور قابل شرم و مذمت بھی۔ خیبرپختونخواہ کی حکومت نے اعتزاز حسن کی شہادت پر بھی اس وقت تک حرکت نہیں کی تھی جب تک عمران خاں نے لعنت طعن نہیں کی تھی۔ لگتا ہے کہ وعدے بھی اس وقت پورے کیے جائیں گے جب کوئی ان کی دم پر پاؤں رکھے گا۔
ایسا ہی ایک نوجوان ملک عثمان ہے جس کا تعلق شرقپور شریف سے ہے اور کویت میں کئی برسوں سے مقیم ہے، اس نے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کیا ہوا ہے لیکن خود کو ابھی تک طالب علم ہی کہنے اور سمجھنے پر فخر و ناز کرتا ہے۔ کویت میں رہ کر اس نے اپنی دھرتی ماں یعنی شرقپور کی نسبت سے شرقپور ڈاٹ کام ویب سائٹ شروع کر رکھی ہے ۔ اور یہ کویت سے لاکھوں روپے زرمبادلہ پاکستان بھیج کر ملکی معیشت کی مضبوطی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔وہ اپنی بنائی ہوئی ویب سائیٹ شرقپور ڈاٹ کام کے ذریعہ اپنے دیس اور شہر کے مسائل کو اجاگر کرکے انہیں حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ گزشتہ دنوں ملک عثمان پاکستان آیا تو اس سے ملاقات ہوگئی ہے۔ اس سے پوچھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کے موجودہ حالات کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ خاموش طبع ملک عثمان جواب میں کہنے لگا’’ یہ تو ہر پاکستانی کے احساسات ہیں کہ ’’پاکستان ہے تو ہم ہیں‘‘ اس سے آگے جو کچھ اس نوجوان نے کہا وہ ہمارے حکمرانوں ،سیاستدانوں،بیوروکریٹس،مزدوروں ،کسانوں ،طالب علموں سمیت ہم سب کے لیے قابل غور ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ ملک عثمان کہنے لگا کہ آپ کا یہ سوال کہ کہ افواج،عدلیہ اور بیوروکریٹس کو پارلیمنٹ کا احترام کرنا چاہیے؟ یا آئے دن آئین کو معطل کرنے کی روش کو پاکستان کے مفاد میں خیال کرتے ہیں؟
میں گو کہ خود کو نہ تو صحافی گردانتا ہوں اور نہ جرنالزم میری فیلڈ ہے میری فیلڈ کمپیوٹر سائنس ہے اور میں اس کا سٹوڈنٹ ہوں لیکن شوق کی خاطر علم کی پیاس کو بجانے کے لیے کبھی کبھی حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے کچھ ذہن میں آتا ہے تو ایک آدھ کالم لکھ دیتا ہوں۔
ہو سکتا ہے کہ ان کے اوپر والے سوال کا جواب میں شاید وضاحت سے بیان نہ کرسکوں اس لیے میری قارعین سے گزارش کہ مجھ ناچیز کو طفل مکتب سمجھ کر اگنور کردیں۔
ان کے سوال کو سمجھنے کے لیے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ سب ادارے چاہے وہ افواج پاکستان ہو، عدلیہ ہو یا بیوروکریٹس ہوں وہ پارلمینٹ کا احترام کیوں کریں؟ کیوں کہ ان اداروں کے افراد خود کو بھی دوسرے اداروں سے کم محب وطن نہیں سمجھتے بلکہ افواج تو خود کو دوسروں سے زیادہ محب وطن سمجھتی ہیں۔ اور پھر ایک عام تاثر یہ بھی ہوتا ہے کہ فوج کا ایک جنرل لوہے کی طرح ایک بھٹی میں تپ کر کہنہ مشک بن کر جنرل بنتا ہے اور تعلیم و تربیت اور تجربے میں وہ کسی سے کم نہیں ہوتا کیوں کہ وہ نیچے سے اوپر تک سیڑھیاں طے کرتا ہوا اس پوزیشن تک پہنچا ہوتا ہے۔ تو پھر وہ کیوں کر ایک پارلمنٹرین یا پارلیمنٹ کی عزت کرے کہ جس میں کوئی بھی ان پڑھ یا خاندان یا برداری کی طاقت پر ووٹ لیے کر یا پھر دھاندلی کرکے یا پھر پیسہ لگا کر پاور میں آنے والا شخص لوگوں پر حکومت کرتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑایں تو اس ملک میں جمہوریت سے زیادہ فوج نے اس ملک میں حکومت کی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی اس ملک میں پارلمینٹ کو بحثیت ایک ادارہ وہ طاقت یا اہمیت نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی۔ اس ملک میں پارلمینٹ اور گاوں میں لگنے والی پنچایت میں کوئی فرق نہیں جس میں گاوں کا چوہدری یا وڈیرہ فیصلے کرتا ہے اور باقی سب سرجھکا کر اس کی بات سنتے ہیں۔ پاکستان میں ادارے یا پارلمینٹ اس لیے مضبوط نہیں ہوسکے کہ ہم نے ان کو شخصیات اورینٹڈ بنا دیا ہے جو ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتے ہیں۔ بحثیت ادارہ اس کی اپنی کوئی حثیت نہیں۔ اگر آپ موجودہ دور میں میاں نواز شریف کی پچھلے 4 چار سال کی حاظری کو مدنظر رکھ لیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کتنے دن پارلیمنٹ میں حاظر ہوئے ہیں۔ اور ان کی نظر میں پارلیمنٹ کی کیا حثیت ہے۔ میاں صاحب تو صحافیوں کے سوالوں کا جواب دینا بھی گوارہ نہیں کرتے ان کی زیادہ تر پریس کانفرنسوں میں وہ آتے ہیں اور اپنا بیان دے کر چلتے بنتے ہیں اور صحافی منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ ان سے سوال کیا کریں۔ اگر کبھی آپ کو ایسا موقع دیکھنے کو مل بھی جائے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ میاں صاحب کے چند پسندیدہ صحافی جن میں سے کچھ خود کو قلم کار کہنے والے علم سے نابلد لفافہ صحافی شامل ہوتے ہیں وہاں موجود ہوتے ہیں جو ایسے سوال کرتے ہیں جس سے میاں صاحب کو خوش کیا جاسکے اور ان کی خوش آمد کی جاسکے۔ جب یہ ایک پریس کانفرنس کا حال ہو تو کیا آپ توقع رکھتے ہیں کہ ایسا پارٹی سربراہ پارلمینٹ میں آکر سوالوں کا جواب دے گا یا امریکہ یا یورپ کے لیڈروں کی طرح ٹی وی پر بیٹھا اپوزیشن لیڈر سے مباحثہ کررہا ہوگا۔ المیہ تو یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے جتنے سیشن ہوتے ہیں اور جب کبھی وہاں بحث ہوتی ہے اسمبلی کا سپیکر بھی اپنی پارٹی کا دفاع کررہا ہوتا ہے جبکہ اس کا کام غیر جانبدار رہ کر پارلمینٹ کی سربراہی کرنا ہوتا ہے۔ اور یہی حال نیشنل اسمبلی، سندھ اسمبلی اور دیگر صوبوں کی اسمبلیوں کا ہے۔ اور اس سے بھی بڑا المیہ کیا ہوگا کہ سینٹ کمیٹی کئی بار اس ملک کے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو کہہ چکی ہے کہ وہ ایل این جی کا کنٹریکٹ لا کر سینٹ میں پییش کریں اور وہ ہر دفعہ اس کو گول کرجاتے ہیں اس لیے کہ ان کی نظر میں سینٹ یا پارلمینٹ کی کوئی حثیت نہیں۔ اور یہ مبینہ طور پر اس کنٹریکٹ میں کرپشن میں ملوث ہیں ورنہ وہ ایسے ہیلے بہانے نہ کرتے۔
اس ملک کی تینوں بڑی جماعتوں میں ان کی تمام سیاست شخصیات اور خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔ 
اس ملک میں پارلمینٹ تب تک مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک اس ملک میں صیح معنوں میں جمہوری پارٹیوں کے اپنے اندر جمہوریت نہیں پھلتی پھولتی۔ وہ چاہے ن لیگ ہو، چاہے پی پی پی یا پاکستان تحریک انصاف یا دیگر تمام سیاسی پارٹیاں ہر پارٹی کی جمہوریت صرف شخصیات کے گرد گھومتی ہیں۔ ان پارٹیوں کو ان خاندانوں اور شخصیات سے باہر نکلنا ہو گا۔ گو کہ پی ٹی آئی نے آکر ن لیگ اور پی پی پی کی خاندانی جمہوریت ہر سوالات اٹھائے ہیں مگر میرے ذاتی خیال کے مطابق خود پی ٹی آئی میں ابھی جمہوریت پروان نہیں چڑھی، اس پارٹی کا سارا مظہر عمران خان کی شخصیت ہے اگر پارٹی میں سے عمران خان کو نکال دیں تو باقی پارٹی یوں بیٹھ جائے گی جیسے غبارے میں سے ہوا نکلتی ہے۔ اور یہی حال پی پی پی کا ہے گو کہ پی پی پی میں دیگر جماعتوں کی نسبت زیادہ تجربہ کار اور سینئیر سیاست دان موجود ہیں مگر ان کی تمام تجربہ کاری اور سیاست کو بھی ایک اس نوجوان کے آگے چب لگ جاتی ہے جس کو ایک پپٹ پارٹی سربراہ بناکر آگے کیا گیا ہے جس کی اپنی کوئی سوچ نہیں وہ لکھی ہوئی تقریریں کرتا ہوں اور پارٹی کو اصل میں اس باپ اور پھوپھو چلا رہی ہے۔ اور یہ لوگ ذولفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی قبروں پر سیاست کررہے ہیں۔
ان سیاسی پارٹیوں کو بحثیت ایک تنظیم یا اداراہ کے مظبوط ہونا پڑے گا اور پارٹی کے آئین اور انٹرا الیکشن کو فیئر طریقے سے نافذ کرنا ہوگا چاہیے اس میں خاندانی سیاست اور شخصیات کا خاتمہ ہوتا ہو۔ اگر آپ کا اپنا گھر ٹھیک نہیں ہو گا تو پھر دوسروں سے یہ توقع مت رکھیں کہ وہ آپ پر انگلی نہیں اٹھائیں گے اور یہی کچھ اس ملک میں ہوتا آیا ہے۔ اس ملک میں پارلیمنٹ پر اس لیے شب خون مارے گئے ہیں کہ اس ملک میں کبھی جمہوریت تھی ہی نہیں۔ یہاں جمہوریت کے نام پرصرف کچھ خاندانوں نے حکومت کی ہے۔ اور ان کی ساری جمہوریت کا محور اپنا خاندان ہوتا ہے کہ اس کو کیسے کرپشن کے زریعے ترقی دینی ہے ان کو اس ملک کی ترقی سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ایسی تمام صورت حال میں آپ کیونکر توقع کرسکتے ہیں کہ افواج، عدلیہ یا بیوروکریٹس اس پارلیمنٹ کی عزت کریں گے۔
 
اس کے علاوہ مجھے میرے شہر شرقپور شریف سے پیغامات آتے کہ یہاں کہ تعلیمی اداروں میں دہشتگردی سے محفوظ رہنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات ناکافی ہیں ۔جب کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوجاتا ہے تو سکیورٹی ہائی الرٹ اور رید الرٹ کرنے کے بیانات شائع ہوتے ہیں۔ 
پیغامات بھیجنے والے دوست احباب کا اصرار ہوتا کہ میں ’’خاص لوگ‘‘ میں اس مسلہ کو اجاگر کروں ۔ گزشتہ روز شرقپور شریف گیا تو اپنے دوست استاد اکبر علی ناثر کے ہمراہ اپنی مادر علمی درسگاہ گورنمنٹ ہارون پائلٹ ہائر سکنڈری سکول گیا ۔
صاف ستھرا ماحول مثالی نظم و ضبط دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ مین گیٹ پر اس قدر حفاظتی انتظامات اور آنے والے حضرات کی شناخت کے لیے کیے گئے انتظامات کو دیکھ کر متاثر کن پایا۔ سکول کے وسیع و عریض ایریا کے چاروں اطراف آ ہنی باڑ لگا کر قوم کے مستقبل کے معماران کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ مجھے یہ سن کر دلی مسرت ہوئی کہ میری مادر علمی درسگاہ کو پورے ضلع شیخوپورہ میں یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہے۔ پرنسپل جناب محمد نصراللہ سے ملاقات کی اس موقعہ پر سکول کے محنتی اساتذہ ملک ندیم خالد، اکبر علی ناثر بھی موجود تھے انہوں نے پرنسپل محمد نصراللہ سے میرا تعارف کرایا اور سکول کے مختلف مسائل پر بات ہوئی۔ 
اپنی مادر علمی درسگاہ سے میں اور معروف سماجی کارکن شہباز ساغر کے ہمراہ شہر کے ایک اور سکول زینت مسلم ماڈل سکول جانے کا اتفاق بھی ہوا سکول کے روح رواں محمداقبال اپنے آفس میں ہمیں ’’جی آیاں نوں‘‘کہنے کے لیے موجودتھے۔ محمد اقبال صاحب نے ہمیں سکول کے مختلف شعبہ جات دکھائے۔ یہاں بھی بنا لگی لپٹی کہوں تو سکول کی وسیع و عریض عمارت ، صفائی ستھرائی کو تدریسی بندوبست دیکھ دل باغ باغ ہو گیا سوچنے لگا کہ میرے اپنے شہر میں ایسا تعلیمی ادارہ موجود ہے جو کہ سلف میڈ ہے۔ اس سب کے باوجود میں نے سکول کے سربراہ محمد اقبال سے سیفٹی کے معاملات دکھائی نہ دینے بارے پوچھ لیا ۔ جس پر انہوں نے یقین دلایا کہ اس کا انتظام بھی ہوجائے گا۔ ہنگو کے اعتزاز حسن شہید ،محمد اقبال اور کویت میں مقیم ملک عثمان کے جذبات و خیالات کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوا کہ یہی نوجوان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال علیہ رحمتہ اللہ کے وہ نوجوان ہیں جن کے بارے میں انہوں نے کہا تھا ۔۔۔ محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پے جو ڈالتے ہیں کمند
 
سوشل میڈیا پر شیئر کریں یا اپنے کمنٹ پوسٹ کریں

اس قلم کار کے پوسٹ کیے ہوئے دوسرے بلاگز / کالمز
بلوچ عوام کا دکھ کیا ہے
08/11/2017  (2 سال پہلے)   419
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : انور عباس انور

کچھ غیر سیاسی باتیں شاتیں
05/11/2017  (2 سال پہلے)   493
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : انور عباس انور

اپنا بلاگ / کالم پوسٹ کریں

اسی کیٹیگری میں دوسرے بلاگز / کالمز

وقار انبالوی ایک شاعر، افسانہ نگار اور صحافی
11/01/2018  (1 سال پہلے)   1283
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : تحریر

ٍصحافتی اقتدار اور ہماری ذمہ داریاں
12/09/2017  (2 سال پہلے)   525
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : تحریر

خطہ ناز آفریں - شرقپور
21/02/2017  (2 سال پہلے)   1008
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : تحریر

ایک فکر انگیز تحریر
19/10/2016  (3 سال پہلے)   736
قلم کار : توقیر اسلم
کیٹیگری : تحریر


اپنے اشتہارات دینے کیلے رابطہ کریں