انٹرویو پیر سید افضال حسین شاہ صاحب راہنما تحریک لبیک پاکستان این اے 120

25/06/2018  (3 مہینے پہلے)   282    کیٹیگری : سماجی اور سیاسی    قلم کار : ملک عثمان
شرقپور ڈاٹ کام کی جانب سے این اے 120 میں تحریک لبیک پاکستان کے نامزد امیدوار پیر سید افضال حسین شاہ صاحب کا خصوصی انڑویو ریکارڈ کیا گیا۔ ہم معذرت خواہ ہیں کہ اس انٹرویو کی ویڈیو کرپٹ ہونے کی صورت میں ہم یہ ویڈیو پبلش نہیں کرسکے۔ مگر اسی انٹرویو میں کیے کئے تمام سوالات و جوابات کو ہم قارعین کے لیے ٹیکسٹ کی صورت میں پبلش کررہے ہیں۔
اس انٹرویو کے دوران شرقپور ڈاٹ کام کی ٹیم جس میں شرقپور ڈاٹ کام کے اونر اور سی ای او ملک عثمان، چیف ایڈیٹر ڈاکٹر شہباز اور تحصیل رپورٹر ملک عمر جلیل شامل  تھے موجود تھے۔
انٹرویو کا آغاز کرتے ہیں۔
 
ملک عثمان: اسلام علیکم شاہ صاحب
 
شاہ صاحب: وعلیکم اسلام ورحمتہ اللہ وبارکاتہ

ملک عثمان: شاہ صاحب پہلے تو آپ ان لوگوں کے لیے جو آپ کو نہیں جانتے ان کے لیے اپنے بارے میں کچھ بتائیں۔
 
شاہ صاحب: مجھ بندہ عاجز کا نام سید افضال حسین ہے۔ میں حکیم سید عبداللہ شاہ صاحب کا سب سے چھوٹا صاحبزادہ ہوں۔ اور میں والد کی طرف سے سادات رضویہ یعنی امام علی رضا جن کا مشہد میں مزار ہے ہم ان کی اولاد میں سے ہیں۔ ہمارے بڑے خوارزم سے ہجرت کرے ادھر تشریف لائے تھے۔ اور والدہ کی جانب سے میں پیران پیر سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد میں سے ہوں۔ میں نے پرائمری پاس کرنے کے بعد الحمد اللہ قرآن پاک حفظ کیا۔ اس کے بعد تجوید پڑھی۔ اور اس کے کچھ عرصہ بعد درس نظامی کی کتابیں شروع کیں۔ ہمارا جو آبائی شعبہ ہے یعنی میرا، میرے والد صاحب کا میرے دادا جان کا، میرے تایا جان کا اور میرے بھائیوں کا وہ طب ہے۔ پھر میں نے طبیہ کالج میں داخلہ لیا اور الحمد اللہ وہاں سے سند حاصل کی۔ کچھ عرصہ میں طب بھی کرتا رہا اور اس میں الحمد اللہ مجھ کافی تجربہ ہوا۔ اسی دوران میری ملاقات سلسلہ سیفیہ کے عظیم پیشوا جناب حضرت میاں محمد حنفی سیفی دامت برکاتہم سے ہو گئی۔ اور میں ان کے حلقہ میں داخل ہو گیا۔ بچپن سے اہل اللہ سے ملنے کا بڑا شوق تھا۔ اور اہل اللہ کی صحبتوں میں بیٹھتا رہا ہوں جن میں مفتی نومیر صاحب فیصل آباد والے مجھے ان کی سعادت ملی اور ان کا بڑا قرب حاصل رہا۔ میرے استاد طب میں حکیم عبدالحفیظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور بہت سے دیگر دوسرے بزرگ جن کی صحبت میں میں رہا اور جن سے فیوض و برکات حاصل کیے۔ اور پھر الحمدللہ پیرومرشد کے حکم سے میں نے اس سلسلہ کو شروع کیا جو ہمارا سلسلہ ہے طریقت و روحانیت کا اور اس میں ہم نے اپنے علاقے میں 29 کے قریب مدارس بنائے جن میں کہیں 5 بچے پڑھ رہے ہیں اور کہیں 100 پڑھ رہے ہیں۔ اور آگے ان سے بھی مزید بچے قرآن پاک حفظ کررہے ہیں۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس علاقے میں لوگوں کی محبتیں اور عقیدتیں اور تقریبا تقریبا محفلوں جانا آنا یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔  اور الحمدللہ اللہ کے فضل سے وہ تمام مساجد جن کی میں نے بنیاد رکھی وہ ساری آباد ہو گئیں اور وہاں لوگ آج نماز پڑھ رہے ہیں۔ یہ میرا چھوٹا سا مجھ جیسے فقیر کا تعارف تھا۔ 
 
ملک عثمان: شاہ صاحب جیسا کہ آپ نے اپنا تعارف کروایا آپ جیسی مذہبی شخصیت جو دین کے کاموں میں مشغول ہے، آپ نے کیا سوچ کر سیاست میں قدم رکھا جیسا کہ آپ جانتے ہیں سیاست ہمارے ملک میں بدنام ہو چکی ہے۔
 
شاہ صاحب: جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارا تحریک لبیک والا سلسلہ وہاں سے شروع ہوا جب ایک عیسائی خاتون نے آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں بے ادبی کی اور برملا اس نے اس چیز کا تھانوں میں اور کچہریوں میں اس کا اظہار کیا اور اس چیز پر فخر کیا استغفراللہ، اور غیر ملکی جو ایجنسیاں ہیں انہوں نے اس کا ساتھ دیا۔ اور چلتے چلتے یہ نوبت سیلمان تاثیر تک پہنچی اور اس وقت ہمارے بزرگوں نے بڑی کوشش کی کہ اس بندے پر کسی طریقے سے کوئی پرچہ ہو جائے یا کوئی کیس ہو جائے۔ اور جب کسی کی کسی بھی طرف نہ چلی اور اس وقت پورا ملک ایک ذہنی اذیت میں مبتلا تھا تو قبلہ ممتاز احمد قادری صاحب رحمتہ اللہ علیہ شہید انہوں نے اسے (سیلمان تاثیر) کو قتل کردیا ۔ اخلاقی اور قانونی طور پر ہر طریقے سے شریعت کے لحاظ سے ان کی پھانسی نہیں بنتی تھی بلکہ مذہب کے لحاظ سے ان کو سرخرو کیا جانا تھا۔ حکومت کو ان کو چھوڑدینا چاہیے تھا۔ مگر وہ مخلوق جو نظر نہیں آتی اس کے کہنے پر ہماری حکومت نے ان کو قتل کردیا ۔ اور پھر ان کے قتل کے بعد پورے ملک میں بلکہ جہاں جہاں مسلمان موجود تھے ان کو بے پناہ ذہنی اذیت ملی۔ اور اس کا رزلٹ آپ نے دیکھا کہ آپ (ممتاز حسین قادری شہید) کا جنازہ 23 کلو میٹر تک لمبا ہو گیا۔ تو اس کے بعد لوگوں کے بڑے عجیب حالات پیدا ہوئے۔ اور اس وقت جو حالات تھے ان حالات میں ہمارے جو مشائخ تھے ہمارے بزرگ تھے اور مدرسوں میں قال رسول اللہ کی صدائیں دینے والے اور پڑھنے پڑھانے والے تھے ان کو بڑی ذہنی اذیت ملی اور عام لوگوں کو بھی ذہنی اذیت ملی اور اس وقت تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بنیاد ڈالی گئی۔ اور انہوں نے اس کو آگے چلایا۔ چلتے چلتے میرا تحریک لبیک سے تعلق ہو گیا۔ مگر میرا یہ ذہن نہیں تھا کہ میں الیکشن لڑوں گا۔ بلکہ میں تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی وجہ سے ان کی ہر ایک بات پر لبیک کہتا تھا جب انہوں نے دھرنے دیے وہاں پر بھی میں حاضر ہوا اور اس کے بعد استاد علامہ خادم حسین رضوی صاحب میرے پیرو مرشد کے پاس تشریف لیے گئے اور انہوں نے بڑے عجیب انداز میں اپنی چادر ان کے آگے زمین پر پھینکی اور کہا کہ اگر ختم نبوت کا کام آپ نہیں کریں گے اور آخرت میں آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا تو میں کہوں دوں گا کہ مشائخ نے میرے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ آپ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔ سرکار نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کے لیے ہمارا سب کچھ حاضر ہے پھر آپ نے میرا نام لیا کہ افضال شاہ صاحب کو آپ الیکشن میں بھیجیں۔ اس وقت میں عمان شارجہ گیا ہوا تھا اور واپس آتے ہی مرشد نے حکم دیا کہ آپ اس الیکشن میں حصہ لیں۔ جب یہ مسئلہ چل رہا تھا تو اس وقت اپنے علاقے کے جو سیاست دان ہیں ان کو باقاعدہ میں نے کہا کہ آپ اس معاملے میں دلچسپی لیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کے لیے نکلیں۔ اور اگر وہ نکلتے تو میں کبھی بھی اس معاملے میں (سیاست) نہ پڑتا۔ انہوں نے اس چیز  کو کچھ نہیں سمجھا جو بڑی شرم والی بات ہے۔ کچھ بندے فلاں کام کے لیے نکلیں اور فلاں کام کے لیے نکلیں، قانون بدلنے کے لیے نکلیں، نالیوں کے لیے نکلیں، اور دیگر کاموں کے لیے جیسے درخت لگانے کے لیے نکلیں مگر نبی کی عزت کے لیے کوئی نہ نکلے تو اس لیے اس کا دل میں ویسے بھی ایک بڑا غم تھا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جب کھاتے نبی کے نام کا ہیں اور نبی کا نام لیتے ہیں اور جب نبی کی حرمت کا مسلہ بنا ہے تو ان لوگوں کو سانپ سونگ گیا ہے۔ اور اس کے بعد الحمدللہ جب میں اس کام کے لیے نکلا ہوں تو میرا دل انتہائی اطمینان میں ہے۔ اور میں آقا دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں انتہائی مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اس قابل سمجھا اور مجھے اس چیز کا موقع ملا۔ اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت تو اس چیز کی محتاج  نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے فرمایا ورفعنا لك ذكرك۔ اور بہتری اس میں ہے کہ ہم آپ کی عزت کے لیے نکلیں اور جب ہم نے اس میدان میں قدم رکھا تو الحمدللہ اللہ پاک نے ہمیں بڑی کامیابیاں عطا کیں۔ اور ہم کامیاب ہی کامیاب ہی جس دن ہم نے پہلا قدم رکھا اس دن سے ہم کامیاب ہیں۔
 
ملک عثمان: اچھا شاہ صاحب سیاسی طور پر اگر دیکھا جائے تو آپ دوحلقوں میں کھڑے ہوئے ہیں۔ آپ کا وژن کیا ہے آپ کیا دیکھتے ہیں کہ اگر آپ الیکٹ ہو جاتے ہیں تو اپنے علاقے کی عوام کے لیے آپ کیا کرنا چاہیں گے۔ آپ کیا ترقیاتی کام کریں گے لوگوں کے جو بنیادی مسائل ہیں تعلیم، صاف پانی، روزگار وغیرہ ان کے لیے آپ نے کیا سوچا ہے۔
 
شاہ صاحب: اللہ اکبر آپ نے بڑا اچھا سوال کیا۔ سب سے بڑی ترقی یہ ہے کہ اگر ہم اپنے آپ کو پہچان جائیں۔ ہمارے ہاں جو رواج چل رہے ہیں کہ ایک پارٹی ایک کے ساتھ ہو جاتی ہے اور دوسری دوسرے کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ اور یہ لوگوں کے گھر اجاڑ دیتے ہیں تھانے کچہریوں کے چکروں میں اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ ان کا بھلا ہو جائے۔ یہ بڑی ناانصافی ہے کہ ایک بچہ جو بڑا لائق ہوتا ہے اور اس کے سپورٹر نہیں ہوتے اس لیے اس کو رجیکٹ کردیا جاتا ہے۔ نوکری لگے  ہووں پر کیس کردیئے جاتے ہیں۔ اور ایک بندہ جو اس کا اہل ہی نہیں ہوتا اس کو آگے کردیا جاتا ہے۔ اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق انصاف کریں اور کرپشن نہ ہو تو ہمارے علاقے کے اتنے کام ہوسکتے ہیں کہ شاید وہ ماحول پیدا ہو جائے جس طرح مدینہ المنورہ میں  ایک وقت ایسا آیا تھا کہ زکواۃ لینے والا کوئی نہ تھا۔ ہمارے سامنے تویہ بہت بڑی مثال ہے۔ لوگوں کو یہ سب کرنے کے لیے کتابیں پڑھنی پڑھتی ہیں اور ہمیں صرف مدینہ منورہ کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔ سیدنا ابوبکرصدیق کو دیکھنا پڑتا ہے سیدنا عمرفاروق کو دیکھنا پڑتا ہے۔
مہاتما گاندھی نے ایک مرتبہ یونیورسٹی کے طلبا کو لیکچردیتے ہوئے کہا تھا کہ آو میں تمہیں عمر فاروق کی بات بتاتا ہوں، صدیق اکبر کی بات بتاتا ہوں۔ افسوس کہ میں تمہیں لکشمن کی بات نہیں بتا سکتا جو بندہ خود ڈھائی من سونا پہن کر جنگ کے لیے جائے اس کی میں کیا بات بتاوں۔ میں تمہیں ان لوگوں کی بات بتاتا ہوں جو مسلمانوں کے سربراہ تھے اور ان کے کپڑوں پر پوند لگے ہوئے تھے۔ ہمارے جتنے بھی مسائل ہیں وہ اس لیے ہیں کہ لوگوں کے اندر کرپشن ہے اور لوگوں میں خیانت پیدا ہو گی ہے۔ اگر لوگ ایماندار ہوں تو ترقیاں ہی ترقیاں ہیں۔
 
ملک عثمان: اچھا شاہ صاحب جیسا کہ آپ 2 حلقوں میں الیکشن لڑ رہے ہیں اور دونوں ایم این اے کے حلقے ہیں۔ ایک ایم این کا حلقہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ اگر فرض کریں کہ آپ دونوں حلقوں میں جیت جاتے ہیں۔ توآپ کیسے مینج کریں گے اور لوگوں کو ٹائم کیسے دیں گے کیونکہ آپ کا اپنا بھی ایک مذہبی سلسلہ ہے آپ نے ادھر بھی ٹائم دینا ہوتا ہے۔
 
شاہ صاحب: یہ اللہ کا مجھ پر فضل ہے اور اللہ کا احسان ہے کہ پہلے بھی اس سلسلے کے ساتھ ہزاروں لوگوں نے ہم سے کام لیے۔ کئی بڑی بڑی صلح ہوئیں جس میں کئی سوں کے حساب سے بندے قتل ہو چکے تھے۔ الحمدللہ اس بندہ عاجز کی کوششوں سے اللہ پاک نے ان کےگھر بسا دیے۔ اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن میں ہمارے علاقے کے لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ جو فیصلہ افضال شاہ کرے گا وہ ہمیں منظور ہے۔ روزانہ کوئی نہ کوئی، کوئی چھوٹی موٹی پارٹی چلی آتی ہے اور ان کی خدمت ہو رہی ہے۔ الحمدللہ ادھر کوئی 32، 35 کے قریب ایسے گھرانے ہیں جن کو ہم ماہانہ راشن دیتے ہیں دوستوں کے تعاون سے۔ ادھر ہمارے بہت سارے آنکھوں کے کیمپ لگتے ہیں۔ اور بہت سے دوسرے کیمپ لگتے ہیں۔ اور ہماری ایک پوری ٹیم ہے، علاقے کے جو لوگ علاج نہیں کرواسکتے یہ ٹیم ان کو بڑے بڑے ہسپتالوں میں لیے کر جاتی ہے اور ان کا علاج کرواتی ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ کام تو پہلے سے ہی ہورہے ہیں۔ اور الحمدللہ اللہ نے بہت بڑے کام مجھ سے لیے لیے ہیں اور یہ اللہ نے اپنے فضل سے لیے ہیں اس میں میری کوئی اوقات نہیں ہے۔ اور انشااللہ یہ کام چلتے رہیں گے۔
 
ملک عثمان: شاہ صاحب آپ کی مخالف سیاسی پارٹیاں اور دوسرے لوگ آپ کی پارٹی اور تحریک کے جو روح رواں ہیں علامہ خادم حسین رضوی صاحب ان پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ دوسری جماعتیں تو دور کی بات اہل سنت کے جو اپنے علما ہیں ان کو بھی ساتھ لیے کر نہیں چل رہے جیسے ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب یا اہل سنت کے دوسرے گروپس ہیں۔ علامہ صاحب کہتے ہیں کہ جس نے جوائن کرنا ہے وہ خود ہمیں آکر جوائن کرے ہم نے کسی کے پاس نہیں جانا۔ اگر آپ یہی سیاسی سوچ لیے کر چل رہے ہیں اور اگر آپ آگے چل کر ملک پر حکومت کرتے ہیں تو آپ سب کو ساتھ لیے کے کیسے چلیں گے۔ آپ کی جو سوچ لگ رہی ہے اس حساب سے تو ملک خانہ جنگی کی طرف چلا جائے گا۔
 
شاہ صاحب: مسکراتے ہوئے! نہیں نہیں یہ جو آپ نے خانہ جنگی کی بات کی ہے اس طرح نہیں کہتے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی بندہ کسی مل (فیکٹری) میں جنرل مینجر ہوتا ہے تو اس کے نیچے بھی بہت سے پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں مگر وہ (جنرل مینجر) وہ بندے لیے کر آگے چلتا ہے جو اس کے ہم ذہن ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کا ایک گروپ ہے اور ایک بندہ بہت پڑھا لکھا ہے مگر وہ آپ کا ہم ذہن نہیں ہے تو کیا آپ اس کو ساتھ لیے کر چل سکتے ہیں ؟
 
ملک عثمان: شاہ صاحب آپ نے ٹھیک فرمایا مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آپ اس پڑھے لکھے بندے کو آوٹ ہی کردیں۔
 
شاہ صاحب: نہیں نہیں جو اپنی ایک ٹیم ہوتی ہے اس ٹیم کا اپنا ایک ٹیم ورک ہوتا ہے اوراس کا سربراہ یہ دیکھتا ہے کہ یہ بندہ میرے ساتھ چلنے والا ہے کہ نہیں۔ جہاں تک ہمارے نظریات ہیں اور ہمارے سربراہ کی جو سوچ ہے وہ تو کہتے ہیں کہ انہیں جانا، انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا جو کچھ ہے وہ سب کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے لیے ہے۔ آپ کی غلامی کے لیے ہے۔ تو اس جگہ جہاں کوئی بھی لچک ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے لیے نہیں مگر دوسری باتوں کے لیے بہت زیادہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیونکہ بنیاد ہیں اسلام کی اور اس کے اوپر اسلام  ہے اور یہ اسلام کی اصل ہے۔ جس طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ نے باقاعدہ طور پر یہ قانون توڑ دیا اور فرمایا کہ اصحاب بدر آئندہ کسی جنگ میں نہیں جائیں گے۔ مگر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرمت پر ڈاکہ ڈالا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اب نہ کوئی بدری پیچھے رہے گا اور نہ کوئ دوسرا صحابی۔ اس لیے کسی بندے کے ساتھ کام کرنے کے لیے اپنا ہم ذہن بندہ ہونا ضروری ہے۔ جس طرح ہمارے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو کچھ دنوں کے بعد تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے دیکھا کہ جیسے یہ ختم نبوت کا مسلہ تھا تو اس میں کچھ ایسے علما بھی موجود تھے مگر حیران کن بات یہ ہے کہ وہ بھی بعد میں چپ ہوگئے۔ تو اب جو بندہ اس وقت چپ ہوگیا اور آزمائے ہوئے  کو دوبارہ آزمانہ یہ تو عقل والی بات نہیں ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا۔ اور یہ انہوں نے جو ایک اصول رکھا ہوا ہے کہ ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وفاداری، تو پہلے جن دوستوں سے سستیاں ہوئیں اب وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو ہم اپنے ساتھ نہیں رکھیں گئے۔ ہم ان لوگوں کو اپنے ساتھ رکھیں گے جن کا معیار یہ ہو کہ وہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے لیے کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کریں گے۔
 
ملک عثمان: شاہ صاحب اگر آپ الیکشن میں بہت ساری سیٹیں جیت لیتے ہیں مگر وفاق میں حکومت نہیں بنا سکتے تو پھر کیا آپ کسی دوسری سیاسی پارٹی کے ساتھ الحاق کریں گے یا آزاد حثیت سے اسمبلیوں میں جائیں گے۔
 
شاہ صاحب: جی آپ نے بڑا اچھا سوال کیا۔ ہماری جو تحریک لبیک ہے وہ اب اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ اب ہمارے پاس بڑے بڑے پرانے سیاست دان اور قابل ترین لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ تو انشااللہ جب آگے چلیں گے تو مشورے کے ساتھ۔ اس لیے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حالانکہ وحی بھی آتی تھی وہ نبی ہونے کے باوجود پھر بھی صحابہ سے مشورہ کرتے تھے۔ تو انشااللہ آگے چل کر مشورے کے ساتھ جو بھی ہماری تحریک کا فیصلہ ہوگا ہم اس پر عمل کریں گے۔
 
ملک عثمان: شاہ صاحب جیسا کہ آپ جانتے ہیں کے آپ کے حلقہ این اے 120 میں تقریبا 3 لاکھ 80 ہزار کے قریب ووٹ ہیں، آپ کیا سمجھتے ہیں آپ کو کتنے فیصد ووٹ ملنے کی توقع ہے۔ 
 
شاہ صاحب: جیسا کہ آپ جانتے ہیں جتنے ووٹ ہوتے ہیں وہ سارے کاسٹ نہیں ہوتے مگر انشااللہ اللہ کے فضل سے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عنایت سے اکثریت ہماری ہوگی۔ گاوں کے گاوں اور شہر کے شہر اور وہ سب پرانے لوگ جو سب دوسری پارٹیوں کے ساتھ تھے وہ ہمیں گھر آکر کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ کئی گاوں میں لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری گاڑیاں آپ کے لیے حاضر ہیں اور یہ بچہ میرا اس کو بھی ساتھ لیے جائیں۔
 
ملک عثمان: شاہ صاحب آخر میں جو آپ کے الیکشن کے حلقے ہیں خصوصا شرقپور شہر کی عوام ان کے لیے اگر آپ کوئی پیغام دینا چاہیں۔
 
شاہ صاحب: جی جی میں شرقپور شریف سے بہت پیار کرتا ہوں اور شرقپورشریف کے لوگوں سے بڑا پیار کرتا ہوں۔ اور یہ شرقپور شریف کے ہی لوگ ہیں جنہوں نے شروع میں میرے سلسلے کے سلسلے میں میرے ساتھ تعاون کیا۔ ہماری محفلوں کو کامیاب کرنے والے جب ہم نے ان میں آنا شروع کیا تو یہ شرقپور شریف کے ہی لوگ تھے۔ بڑی زیادہ مجھے شرقپور شریف سے محبتیں ملیں اور بڑا پیار ملا۔ تو شرقپور شریف کے لوگوں کے لیے پیغام یہ ہے چونکہ یہ بڑا مطالعہ رکھتے ہیں۔ اور ہمارے پورے علاقے میں سب سے زیادہ جو پڑھے لکھے لوگ ملیں گے وہ شرقپور شریف سے ملیں گے تو شرقپور شریف کے لوگوں کے لیے پیغام یہ ہے کہ جو ایک بڑا مسلہ بن چکا ہے تو اب جو ووٹ ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہے۔ ووٹ تو بندہ ڈال دے گا۔ مگر نہ میں نے رہنا ہے نہ شرقپور شریف کے لوگوں نے رہنا ہے یہ دنیا عارضی اور فنا ہونے والی ہے۔ مگر ان کا جو دل ہوگا وہ مطمن رہے گا۔ اور جو اس میں جو زرہ پیچھے رہ جائیں گے اور ان کو دل کے اندر جو بے قراری ہے جب بھی ان کو پتہ چلے گا کہ یار ہم نے ختم نبوت کے ساتھ وفا نہیں کی تو یہ ایک ایسی چیز ہوگی جو ان کو ساری زندگی کے لیے پریشانی کا سبب بنے گی۔ روحانی طور پر بھی اور اخلاقی طور بھی۔ کیونکہ پہلے لوگ ووٹ اس لیے ڈالتے تھے کہ پٹواری ہمارے کام کردے یا تھانے میں ہمارا کام ہو جائے یہ سارے معاملات تھے۔ تو اب جو مسلہ بن گیا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس کے لیے تو اس میں باقی ساری چیزیں پیچھے رہ گئ ہیں۔ اور میں سمجھتا ہوں کیونکہ شرقپور شریف کے لوگ مذہبی لوگ ہیں۔ شرقپور شریف میں حضرت میاں شیر محمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ کا مزار ہے، حضرت ہرنی شاہ صاحب ہیں۔ حضرت میاں سعید اور حضرت حافظ شاہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت حافظ اسحاق قادری رحمتہ اللہ علیہ، حضرت بابا گلاب شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ یہ سب روحانی، علمی و ادبی مراکز ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ شرقپور شریف کے لوگ اب کسی اور کا ساتھ دیں گے۔ چونکہ مسئلہ حضور کی ناموس کا ہے تو شرقپور کے لوگ بھر پور طریقے سے ہمارا ساتھ دے رہے ہیں اور دیتے بھی رہیں گے۔
 
ملک عثمان: بہت شکریہ شاہ صاحب کے آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے ہمارے لیے ٹائم نکالا اور اپنے حلقے کے عوام کے ذہنوں میں جو سوالات تھے ان کے جوابات دیے۔ میں شرقپور ڈاٹ کام کی پوری ٹیم کے جانب سے آپ کا بہت مشکور ہوں۔
 
سوشل میڈیا پر شیئر کریں یا اپنے کمنٹ پوسٹ کریں

اس قلم کار کے پوسٹ کیے ہوئے دوسرے بلاگز / کالمز
اپنا بلاگ / کالم پوسٹ کریں

اسی کیٹیگری میں دوسرے بلاگز / کالمز

ویلنٹائن ڈے کیا ہے۔
11/02/2018  (7 مہینے پہلے)   269
قلم کار : ایڈمن
کیٹیگری : سماجی اور سیاسی


اپنے اشتہارات دینے کیلے رابطہ کریں